Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
149 - 325
کردے گا تو اب اس کا ظاہر وباطن اسی کے ساتھ مشغول ہوتا ہے جس سے وہ ڈرتا ہے کسی اور کی وہاں گنجائش نہیں ہوتی۔ یہ اس کا حال ہے جس پر خوف غالب ہو چنانچہ صحابہ کرام اور تابعین ثکی ایک جماعت کا یہی حال تھا ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !جس قدر خوف ہوتا ہے اسی حساب سے مراقبہ' محاسبہ اور مجاہدہ بھی ہوتا ہے کیونکہ خوف دل کی پریشانی اور جلنے کا نام ہے اور قوتِ خوف کی بنیاد اﷲ لکے جلال' اس کی صفات اور افعال کی معرفت نیز نفس کے عیوب اور پیش آنے والے خطرات کی معرفت ہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! خوف کا کم از کم درجہ جس کا اثر اعمال پر ظاہر ہوتا ہے' یہ ہے کہ وہ ممنوعات سے روک دے اور ممنوعات سے حاصل ہونے والی یہ رکاوٹ ورع (پرہیزگاری) کہلاتی ہے اگر اس کی قوت زیادہ ہو تو وہ ان کاموں سے بھی رک جاتا ہے جن میں حرمت کا گمان ہو تو جن کی حرمت یقینی ہے ان کاموں سے کیسے باز نہیں رہے گا اور اسی کا نام تقویٰ ہے کیونکہ تقویٰ کا مفہوم یہ ہے کہ شک والے کام کو چھوڑ کر اس کام کی طرف جائے جس میں شک نہ ہو اور تقویٰ بعض اوقات اسے ان کاموں کو چھوڑنے پر بھی مجبور کرتا ہے جن میں خودتو کوئی حرج نہیں ہوتا لیکن ان کی وجہ اُن کاموں میں پڑنے کا خوف ہوتا ہے جن میں کوئی حرج ہو۔ اوریہ کیفیت صدق کہلاتی ہے۔

پھر جب اس کے ساتھ عبادت کے لئے گوشہ نشینی کا اضافہ ہوتا ہے تو اُس وقت بندے پر ایسی کیفیت طاری ہوجاتی ہے کہ وہ بہت احتیاط کرنے لگتا ہے ایسی عمارت نہیں بناتا جس میں رہائش اختیار نہ کرے اور نہ ہی کھانے کے علاوہ کچھ جمع کرتا ہے وہ دنیا کی طرف توجہ نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ اسے چھوڑ دے گی اور اس کا کوئی سانس غیر خدا کے لئے استعمال نہیں ہوتا تو صدق میں تقویٰ' تقویٰ میں ورع اور ورع میں عفت داخل ہوتی ہے کیونکہ عفت کا مطلب خاص طور پر خواہشات کے تقاضوں سے بچنا ہے۔یعنی سب سے ادنیٰ درجہ عفت کا ہے اس سے اعلیٰ ورع (پرہیزگاری)اور اسکے بعد تقویٰ اور پھر صدق کا درجہ ہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امام غزالی علیہ الرحمۃ کے مندرجہ بالا فرمان پر غور کرنے سے یہ پتہ چلا کہ خوف کی وجہ سے بندے پر مختلف کیفیات طاری ہوتی ہیں (۱) عفت (۲) ورع (۳) تقویٰ (۴) صدق ۔

عفت 'شہوت کے تقاضوں سے شریعت کی روشنی میں بچنے کا نام ہے ۔

ورع ' ہر ممنوع کام سے رُکنے کا نام ہے ۔

تقویٰ ' یہ ہے کہ انسان ممنوع اور مشتبہہ دونوں قسم کے کاموں سے بچے ۔

صدق ' یہ ہے کہ انسان کسی ممنوع کام میں پڑنے کے خوف سے اُس سے