| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اب یہاں امام صاحب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ عمل پر ابھارنے والے عوامل کا ذکر فرمارہے ہیں چنانچہ فرماتے ہیں البتہ کبھی کبھار اعضاء کی قدرت کسی ایک باعث(یعنی خواہش پیدا کرنے والے) کی وجہ سے عمل کے لئے سر گرم ہوتی ہے اور کبھی دو باعثوں کی وجہ سے جو ایک فعل میں جمع ہو جاتے ہیں اور جب کسی عمل کے باعث دو ہوں توصورتحال کچھ یوں ہوتی ہے (۱) بعض اوقات ایک باعث بھی قدرت کو سرگرم کرنے کیلئے کافی ہوتا ہے (۲) کبھی دونوں الگ الگ اس کام سے قاصر رہتے ہیں جب تک کہ جمع نہ ہو جائیں (۳) بعض اوقات ایک کافی ہو تا ہے اور دوسرا اسکا معاون ہوتا ہے چنانچہ یہاں چار اقسام پیدا ہوئیں۔ ہم ان میں سے ہر ایک کا نام اور اسکی مثال بیان کرتے ہیں۔
(۱) جب ایک باعث تنہا ہو:
مثلا انسان پر کوئی درندہ حملہ آور ہوتا ہے تو اسے دیکھ کر وہ کھڑا ہو جاتا ہے اور اسکے کھڑ اہونے کا محرک صرف یہ ہے کہ وہ درندے سے جان بچا کر بھاگنا چاہتا ہے اور جانتا ہے کہ یہ اسے نقصان پہنچا سکتا ہے چنانچہ اس کے دل میں بھاگنے کا خیال پیدا ہوگا۔ اب اس رغبت کے مطابق قدرت کام کرتی ہے چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اسکی نِیّت درندے سے بھاگنا ہے اور اس اٹھنے کا کوئی او رمقصد نہیں لغوی طور پر اسکو خالص نِیّت کہتے ہیں اور اسکے مطابق عمل کو خالص عمل کہا جاتا ہے ۔کیونکہ اسکی غرض ایک ہی ہوتی ہے مطلب یہ ہے کہ یہ عمل غیر کی شرکت سے پاک ہے ۔
(۲) دو طاقتور باعث :
یعنی جب کسی عمل کے دو باعث ایسے ہوں کہ ان میں سے ہر ایک اکیلا بھی عمل کی تحریک پیدا کرسکتا ہو ۔ مثلا دو آدمی کسی چیز کو اٹھانے میں ایک دوسرے کی مدد کریں لیکن اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک بھی اسے اٹھانا چاہے تو اسے اٹھا سکتا ہو اسی بات کو ایک دوسری مثال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص اپنے قریبی رشتے دار جو کہ محتاج بھی ہو کچھ مددفراہم کرے اور اسکی حاجت پوری کرے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اگر مذکورہ شخص محتاج نہ بھی ہوتا تب بھی قرابت داری کی بناء پر اسکی حاجت کو پورا کرتا اور اگر قرابت نہ ہوتی تو محض محتاجی کی بناء پر پوری کرتا اور دل میں اس بات کا یقین رکھتا ہے کہ اگر اسکا کوئی مال دار رشتے دار بھی حاضر ہو تو اسکی حاجت بھی پوری کریگا اور اگر اجنبی فقیر بھی حاجت مند ہو تو اسکی حاجت بھی پوری کریگا۔ ( یعنی فقر اور قرابت داری دو مستقل باعث ہیں)۔