ترجمہ کنز الایمان : ''اﷲ سے اس کے بندوں میں وہی ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں''(پارہ۲۲ ' سورہ فاطر' آیت ۲۸)
پھر جب معرفت پایہئ تکمیل کو پہنچتی ہے تو وہ خوف کا جلال اور دل کی جلن پیدا کرتی ہے پھر اس گرمی کے اثر کو دل سے بدن کے اعضاء اور صفات پر ڈالتی ہے۔بدن میں اس کا اثر زردی' غشی ،چیخ و پکار اور رونے دھونے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور بعض اوقات اس سے پتا پھٹ جاتا ہے تو موت واقع ہوجاتی ہے یا دماغ تک اثر پہنچتا ہے تو عقل میں خرابی واقع ہوجاتی ہے یا زیادہ ہوجائے تو نا امیدی پیدا ہوتی ہے۔
اعضاء میں اس خوف کے اثر کی علامت یہ ہے کہ وہ ان کو گناہوں سے روک دیتا ہے اور عبادات میں مقید کردیتا ہے اور یوں گذشتہ کوتاہیوں کی تلافی ہوجاتی ہے اور مستقبل میں عبادت کی استعداد پیدا ہوتی ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ ڈرنے والا وہ نہیں جو روئے اور آنکھیں پونچھے بلکہ وہ شخص حقیقتاً خائف ہوتا ہے جو اس عمل کو چھوڑتا ہے جس پر عذاب کا خوف ہو۔
حضرت سیدنا ابو القاسم حکیم (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)نے فرمایا ''جو آدمی کسی چیز سے ڈرتا ہے وہ اس سے دور بھاگتا ہے اور جو اﷲلسے ڈرتا ہے وہ اسی کی طرف بھاگتا ہے۔'' حضرت سیدنا ذوالنون مصری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے پوچھاگیا کہ بندہ خوف زدہ کب ہوتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا جب بندہ اپنے آپ کواس بیمار کی طرح سمجھے جو بیماری کے بڑھنے کے خوف سے پرہیز کرتا ہے۔یعنی خائف گناہوں اور غفلت کے بڑھنے سے خوف زدہ ہوتا ہے۔
صفات میں خوف کے اثر کی صورت یہ ہے کہ خواہشات کا قلع قمع اور لذتوں کو گدلا کردے پس وہ گناہ جو اسے پسند تھے' ناپسندیدہ ہوجائیں گے جس طرح کسی شخص کو شہد پسند ہو لیکن جب اسے معلوم ہوجائے کہ اس میں زہر ہے تو وہ اسے ناپسند کرنے لگتا ہے۔ تو خوف کی وجہ سے خواہشات جل جاتی ہیں اور اعضاء مؤدب ہوجاتے ہیں نیز دل میں انکساری ' خشوع' ذلت اور جھکاؤ پیدا ہوجاتا ہے اور اس سے تکبر' کینہ اور حسد دور ہوجاتا ہے بلکہ وہ خوف کی وجہ سے غم کا شکار ہوجاتا ہے اورانجام پر نظر رکھتا ہے چنانچہ
اب وہ غیر کے لئے فارغ ہی نہیں ہوتااوراس کا شغل صرف مراقبہ' محاسبہ اور مجاہدہ ہوتا ہے ۔وہ ایک ایک سانس کا حساب رکھتا اورقلبی خیالات اورکلمات پرنفس کا مواخذہ کرتا ہے اس کا حال اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو درندے کا شکار ہوجائے اور اسے معلوم نہیں کہ وہ (درندہ) اس سے غافل ہوگا اور یہ اس سے چھوٹ جائے گا یا وہ اس پر حملہ کرکے اسے ہلاک