Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
147 - 325
پہنچانے والے اسباب (یعنی اپنی نافرمانی) کا علم ہے اور اُسے یہ بھی معلوم ہے کہ میرا جرم بہت بڑا ہے نیز بادشاہ ذاتی طور پر کینہ پرور' غضبناک اور انتقامی مزاج والا ہے۔ اور یہ کہ انتقام کی ترغیب (یعنی نافرمانی )بھی موجود ہے اس کے علاوہ اس غلام کے حق میں سفارش کرنے والا کوئی نہیں۔ اور یہ ڈرنے والا شخص ہر قسم کے وسیلے (سفارش) یاکسی ایسی نیکی سے خالی ہے جو بادشاہ کے ہاں اس کے جرم کو مٹادے ۔ 

چنانچہ ان اسباب کے ظہور کا علم 'خوف اور دل کی سخت پریشانی کا سبب بنتا ہے یعنی غلام جتنا ان اسباب پر غور کرتا جائے گا خوف زدہ ہوتا جائے گا کیونکہ جس قدر اسباب کمزور ہوں گے خوف بھی کم ہوگا اور جس قدر خوف کے اسباب زیادہ ہونگے خوف بھی زیادہ ہوگا۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یہاں ایک بات اور سمجھ لیجئے کہ بعض اوقات خوف کسی جرم کے سبب سے نہیں ہوتا بلکہ جس سے ڈررہا ہے اس کی کوئی صفت خوف کا سبب بنتی ہے مثلاً کوئی شخص کسی درندے کے پنجے کے نیچے آجائے تو وہ درندے سے اس کی صفت (درندگی ) کی وجہ سے ڈرتا ہے ۔ جیسے کوئی شخص سیلاب میں گھر جائے یا آگ میں پڑجائے تو اُسے ان چیزوں سے خوف محسوس ہو گا حالانکہ اس شخص نے درندے ' سیلاب اور آگ کی کوئی نافرمانی نہیں کی پھر بھی ان سے خوف زدہ ہورہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تینوں اشیاء کی صفت ہی ہلاک کردینا ہے 

تو میرے میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اسی طرح اللہ عزوجلکا خوف بعض اوقات اس کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت کی وجہ سے ہوتا ہے کہ اگر وہ تمام جہانوں کو ہلاک کردے تو اسے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں اور اس عمل سے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور بعض اوقات اس کا سبب بندے کے جرائم ہوتے ہیں جبکہ بعض اوقات یہ دونوں باتیں ہوتی ہیں اور یہ خوف اتنا ہی ہوتا ہے جتنا اسے اپنے نفس کے عیبوں کی پہچان ہوتی ہے اور جس قدر اﷲ (عزوجل) کے جلال اور اس کے استغنأ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ لجو کچھ کرتا ہے اس کے بارے میں اس سے سوال نہیں کیا جاسکتا۔

چنانچہ اسی معرفت کے حساب سے خوف کی قوت ہوتی ہے لہٰذا وہی شخص اپنے رب سے زیادہ ڈرتا ہے جو اپنے آپ کو اور اپنے رب کو زیادہ پہچانتا ہے اسی لئے نبی اکرم ' تاجدار عرب و عجم ' شاہ ِ بنی آدم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہِ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
اَنَا اَخْوَفُکُمْ لِلّٰہِ۔
ترجمہ : ''میں تم سب سے زیادہ خوفِ خدا رکھتا ہوں''(صحیح بخاری جلد ۲ ص ۹۰۱ کتاب الادب)

اسی طرح اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا۔
Flag Counter