| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
خوف کا بیان اس حصے میں درجہ ذیل باتوں کا بیان ہوگا ۔ (۱) حقیقت خوف (۲)درجات خوف (۳)خوف کی اقسام (۴)فضیلت خوف (۵)خوف ورجاء میں سے کیا افضل ہے؟ (۶)خوف کی دوا (۷)بُرے خاتمے کا مفہوم (۸) انبیاء کرام( علیھم السلام) اور صالحین میں خائفین کے احوال (اﷲ (عزوجل) ان سب پر رحمت نازل فرمائے) اور ہم اﷲ (عزوجل) سے حسن توفیق کا سوال کرتے ہیں۔
فصل ۔۔۔۔۔۔۱
حقیقتِ خوف:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! خو ف دراصل دل کے درد اور جلن کا نام ہے اور اس کا سبب آنے والے وقت میں کسی نا پسندیدہ بات کی توقع ہوتی ہے ۔لیکن جو اﷲ لسے مانوس ہوجائے' اس کے دل میں اللہ عزوجلکی یاد کے سوا کچھ نہ ہو اور وہ اپنے وقت کو صحیح استعمال کرنے والا اور ہمہ وقت جمال حق کا مشاہدہ کرنے والا ہو تو مستقبل کی طرف اس کی توجہ نہیں رہتی چنانچہ اب اس کے لئے خوف اور امید کچھ بھی باقی نہیں رہتا اور اس کی حالت خوف ورجاء سے بلند ہوجاتی ہے کیوں کہ یہ دونوں نفس کو تکبر سے روکتے ہیں چنانچہ حضرت سیدنا سیدنا واسطی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ خوف اﷲ (عزوجل) اور بندے کے درمیان حجاب ہے اور انہوں نے یہ بھی فرمایا جب دلوں پر حق غالب آجائے تو ان میں امید اور خوف باقی نہیں رہتے۔اس کی وضاحت ان الفاظ میں کی جاسکتی ہے کہ خوف بھی تین اشیاء یعنی علم' حال اور عمل سے منظم ہوتا ہے ۔ دراصل علم سے مراد اس سبب کا علم ہے جو ناپسندیدہ بات کا سبب بنے ۔ جیسے کوئی شخص کسی بادشاہ کا مجرم ہو پھر وہ اس کے قابو میں آجائے تو اسے اپنے قتل کا ڈر ہوتا ہے اگرچہ معافی کا حاصل ہونا اور بھاگنا بھی ممکن ہے لیکن اس کے دل میں پریشانی اس کی علمی قوت کے اعتبار سے ہوتی ہے ۔ اُس شخص کو قتل تک