Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
145 - 325
جس کی عمر بڑھی تو گناہ بھی زیادہ ہوگئے میں ہی وہ آدمی ہوں کہ جب میں نے ایک خطاء کو چھوڑ نے کا ارادہ کیا تو دوسری خواہش سامنے آگئی۔

پھر اپنے آپ کو مخاطب کرکے ارشاد فرماتے ،ہائے عبید ! تمہاری پہلی خطا پرانی نہ ہوئی اور تو دوسری کا طالب ہوگیا ۔اے عبید ! اگر آگ تیرا مقام اور ٹھکانہ ہو (تو کیا کریگا) اے عبید ! ہوسکتا ہے گرُز تیرے سر کے لئے بنے ہوں۔ اے عبید ! طالبین کی حاجات پوری ہوگئیں لیکن شاید تیری حاجت پوری نہ ہو۔

اسی طرح حضرت سیدنا منصور بن عمار رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے ایک رات کوفہ میں ایک عبادت گزار سے سنا وہ اپنے رب دسے مناجات کرتے ہوئے کہہ رہا تھا اے میرے رب! مجھے تیری عزت کی قسم میں نے تیری نافرمانی سے تیری مخالفت کا ارادہ نہیں کیا اور جب تیری نافرمانی کی تو تیرے مقام سے ناواقف ہوتے ہوئے نہیں کی اور نہ ہی اپنے نفس کو تیرے عذاب کے لئے پیش کرنا مقصود تھا میں تیری نظر کو حقیر بھی نہیں جانتا تھا۔ لیکن میرے نفس نے اس کام کو میرے سامنے اچھا کرکے پیش کیا میری بدبختی نے اس معاملے میں مدد کی اور مجھے تیری پردہ پوشی سے دھوکہ ہوا تو میں نے اپنی جہالت کی وجہ سے تیری نافرمانی کی اور اپنے عمل سے تیری مخالفت کی اگر تیری رحمت کی رسی مجھے سے چھو ٹ جائے توتیرے عذاب سے مجھے کون بچائے گا یا میں کس کی رسی کو پکڑوں گا ۔بلکہ بڑی خرابی تو یہ ہے کہ کل قیامت کے دن تیرے سامنے کھڑا ہونا ہوگا جب ہلکے پھلکے لوگوں سے کہا جائے گا تم گزر جاؤ اور زیادہ بوجھ والوں سے کہا جائے گا کہ اترو تو کیا میں کم بوجھ والوں کے ساتھ گزر جاؤں گا یا زیادہ بوجھ والوں کے ساتھ نیچے اتار دیا جاؤں گا۔ ہائے میرے لئے خرابی ہے جب میری عمر زیادہ ہوگئی تو گناہ بھی بڑھ گئے تو میں کہاں تک توبہ کروں گا اور کب تک دوبارہ گناہ کرتا جاؤں گا۔ کیا وہ وقت نہیں آیا کہ میں اپنے رب سے حیا کروں۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ان بزرگان دین  کا اپنے مالک سے مناجات کا یہ طریقہ تھا اور اس طرح وہ اپنے نفس کو جھڑکتے تھے ۔وہ مناجات کے ذریعے اپنے رب لکی رضا چاہتے تھے اور نفس کو جھڑکنے کا مقصد اسے تنبیہ کرنا اور رعایت نفس مقصود تھی تو جو شخص نفس کو جھڑکنے اور اﷲ تعالیٰ سے مناجات میں سستی کرتا ہے وہ اپنے نفس کی رعایت اور خیال کرنے والا نہیں ہوتا اور ہوسکتا ہے اﷲ تعالیٰ اس سے راضی نہ ہو ۔۔۔۔۔۔ اﷲ تعالیٰ وحدہ لاشریک کے لئے حمد ہے اور ہمارے سردار حضرت سیدنا محمد مصطفی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے آل و اصحاب پر درود وسلام ہو۔