ہوا ،میں نے بہت زیادہ جرأ ت کی، میں نے دیر تک گناہ کئے اور مجھے حیا نہ آئی یہ گڑ گڑانے والے مسکین، مفلس فقیر کمزور حقیر اور ہلاک ہونے والے ڈوبنے والے کی پکار ہے۔میری مدد میں جلدی فرما اور میری پریشانی کو دور کردے مجھے اپنی رحمت کے آثار دکھا دے اور اپنے عفو اور مغفرت کی ٹھنڈک کا مزا چکھادے مجھے گناہوں سے بچنے کی قوت عطا فرما اے ارحم الراحمین۔
اے نفس ! اس سلسلے میں تو اپنے باپ آدم علیہ السلام کی اقتدا کر ۔جیسے کہ حضرت سیدنا وہب بن منبہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں جب حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کو جنت سے زمین میں اتارا گیا تو کچھ عرصہ آپ یوں رہے کہ آنسو نہیں تھمتے تھے ساتویں دن اﷲ تعالیٰ نے ان کی طرف نظر رحمت فرمائی تو آپ غمگین اور پریشان تھے اور آپ ں نے سرجھکایا ہوا تھا اﷲ تعالیٰ نے آپ ں کی طرف وحی بھیجی اور فرمایا اے آدم علیہ السلام !تم پر یہ پریشانی کیسی ہے ۔آپ نے عرض کی اے میرے رب میری مصیبت بہت بڑی ہے ،مجھے میری خطاؤں نے گھیر لیا ہے اور ان کے باعث میں اپنے رب د کی نعمتوں (یعنی جنت )سے باہر آگیا ہوں۔ عزت کے بعد ذلت کے مقام پر آگیا ہوں۔ سعادت کے بعد بدبختی ،راحت کے بعد تھکاوٹ ،عافیت کے بعد آزمائش ،ہمیشہ رہنے والے مقام کے بعد مٹ جانے والی، دائمی زندگی کے مقام میں رہنے کے بعد موت اور فنا کی جگہ پر آگیا ہوں تو میں کس طرح اپنے گناہ پر نہ روؤں ۔
اس پراﷲد نے حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ اے آدم علیہ السلام ! کیا میں نے تجھے اپنے لئے منتخب نہیں کیا ،تجھے اپنے گھر میں نہیں اتارا اپنی کرامت و عزت کے ساتھ تجھے خاص نہیں کیا ،اپنی ناراضگی سے تجھے نہیں بچایا ۔کیا میں نے تجھے اپنے دست قدرت سے پیدا نہیں کیا اور تجھ میں اپنی روح نہیں پھونکی میں نے فرشتوں سے تجھے سجدہ کرایا پھر تم نے میری حکم عدولی کی میرے عہد کو بھلا دیا اور میری ناراضگی مول لی۔
مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم ہے اگر میں تمام زمین کوتم جیسے لوگوں سے بھردوں اور وہ سب میری عبادت کریں اور میری تسبیح بیان کریں پھر میری نافرمانی کریں تو میں ان کو گناہ گاروں کی جگہ اتاروں گا' اس پر حضرت سیدنا آدم علیہ السلام تین سو سال تک روتے رہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ روایت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جو کوئی جتنا زیادہ مقرب ہوتا ہے اسکی آزمائش اتنی ہی زیادہ ہوتی ہے ، بہر حال رب سب کا مالک ہے وہ اپنے پیارے بندوں اور انبیاء کرام علیہم السلام کو جیسے چاہے تنبیہ فرمائے اور یہ حضرات جیسے چاہیں اپنے رب (عزوجل) کی بارگاہ میں عاجزی کریں۔کسی دوسرے کو ان مقربین کے بارے میں ہر گز ہرگز اس قسم کی گفتگو کرنے کی اجازت نہیں ۔
حضرت سیدنا عبید اﷲ بجلی رحمہ اﷲ تعالیٰ بہت رویا کرتے تھے وہ رات بھر روتے اور کہتے یا اﷲ ! میں وہ شخص ہوں