Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
143 - 325
لگادیا ہے اور گناہوں کی تاریکی دل کے ظاہر اور باطن پر خوب چھا گئی ہے۔

اب اپنے نفس کو دوزخی جان اﷲ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا تو اس کے لائق لوگوں کو بھی پیدا فرمایا اور جہنم کو پیدا کیا تو اس کے مناسب لوگ بھی پیدا کئے تو جس کو جس جگہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے تواس کے مطابق عمل اسکے لئے آسان کردیاگیا۔

اگر اب تیرے اندر وعظ و نصیحت کی گنجائش نہ رہے تو اپنے آپ سے نا امید ہو جا اور نا امیدی بہت بڑا گناہ ہے ہم اس سے اﷲ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں اب تیری لئے نہ تو نا امیدی کا راستہ ہے اور نہ ہی امید کا' بلکہ بھلائی کے تمام راستے تجھ پر بند ہوچکے ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس موقع پر امام وعظ ونصیحت سیدنا امام غزالی علیہ رحمۃ الباری اپنے نفس پر غور کرنے کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ۔

اب تو دیکھ کہ کیا تجھے اس مصیبت پر دکھ ہوتا ہے جس میں تو مبتلا ہے اور کیا اپنے نفس پر رحم کھاتے ہوئے تیری آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں ۔اگر آنسو بہتے ہیں تو ان کا منبع بحر رحمت ہے اس سے معلوم ہوا کہ ابھی تجھ میں امید کی جگہ باقی ہے لہٰذا رونا دھونا اپنا وطیرہ بنالے اور سب سے زیادہ کریم لکی بارگاہ میں دل کی سختی کی شکایت کر اس سے مسلسل مدد مانگ اور شکایت کی اس طوالت سے تھک نہ جانا۔

شاید وہ تیرے ضُعف پر رحم فرمائے اور تیری فریاد کو پہنچے کیوں کہ تیری مصیبت بہت بڑی ہے اور تیری آزمائش سخت ہوگئی ہے ،نافرمانی بڑھ گئی ہے اور کوئی حیلہ باقی نہیں رہا اور تو بیماریوں کی آماجگاہ بن چکا ہے ، اب نہ کوئی مقام طلب ہے نہ مدد کی جگہ نہ راہ فرار ہے اور نہ کوئی ٹھکانہ صرف اپنے مولیٰ (عزوجل) کے ہاں پناہ لے سکتا ہے لہٰذا آہ وزاری کے ساتھ اس کے حضور حاضر ہوجا اور اپنی جہالت اور گناہوں کی کثرت پرخشوع وخضوع کا مظاہرہ کرتے ہوئے تضرع اور گڑ گڑانے کی راہ اختیار کر کیوں کہ وہ عاجزی کرنے اور گڑ گڑانے والے پر رحم کرتا ہے اور مجبور طالب کی مدد فرماتا اور اس کی دعا کو قبول کرتا ہے۔

آج تو اس کی طرف مجبور اور اس کی رحمت کا محتاج ہے تجھ پر راستے تنگ اور بند ہوگئے ہیں تمام اسباب منقطع ہوچکے ہیں ،نصیحت نے تجھ پر کوئی اثر نہیں کیا، نہ ہی جھڑک نے تیرے اندر کوئی ہلچل مچائی تو جس سے توطلب کرتا ہے وہ کریم ہے جس سے مانگتا ہے وہ جو دوسخا کا مالک ہے جس سے مدد طلب کی جارہی ہے وہ رؤف و رحیم ہے اور اس کی رحمت کشادہ' کرم اور فیض سے بھرپور اور عفوو درگزر عام ہے تم یوں کہو۔

اے سب سے زیادہ رحم فرمانے والے، اے رحمن ،اے رحیم' اے حلیم اے عظیم' اے کریم ! میں بار بار گناہ کا مرتکب