وہ تجھ سے ہر لمحہ منہ پھیررہی ہے اور کتنے ہی لوگ ہیں جنہوں نے کل پر کام رکھا تو پورانہ ہوا اور ان کی کتنی ہی آرزوئیں ادھوری رہ گئیں ۔تو اپنے بھائیوں ،رشتہ داروں اور پڑوسیوں میں اس بات کو دیکھتا ہے۔ اے نفس ! تو دیکھتا ہے کہ ان کو اس بات پر افسوس ہوتا ہے لیکن تو پھر بھی اپنی جہالت سے باز نہیں آتا ۔اے مسکین نفس ! اس دن سے ڈر جس کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے قسم ارشاد فرمائی ہے کہ وہ اس بندے کو ہرگز نہیں چھوڑے گا جس کو دنیا میں کسی کام کے کرنے کا حکم دیا اور کسی کام سے روکا حتی کہ اس سے اس کے عمل کے بارے میں سوال ہوگا وہ عمل چھوٹا ہو یا بڑا ظاہر ہو یا پوشیدہ۔ تو اے نفس ! دیکھ کس بدن کے ساتھ تو اس کے سامنے کھڑا ہوگا اور کس زبان کے ساتھ جواب دے گا نیز سوال کا جواب تیار کر اور جواب بھی صحیح ہو زندگی کے چھوٹے چھوٹے دنوں میں آخرت کے بڑے دنوں کے لئے عمل کر۔ختم ہونے والے گھر میں باقی رہنے والے گھر کے لئے۔ غم اور تھکاوٹ والے گھر میں نعمتوں اور ہمیشہ رہنے والے گھر کے لئے عمل کر اس سے پہلے کہ تو عمل نہ کرسکے اب عمل کرلے دنیا سے خود اپنے اختیار کے ساتھ آزاد لوگوں کی طرح نکل جا اس سے پہلے کہ تو مجبور ہو کر نکالا جائے دنیوی تروتازگی اگر تیری مدد گار ہے تو اس پر خوش نہ ہو کیوں کہ اکثر خوش ہونے والا نقصان اٹھاتا ہے اور بہت سے نقصان اٹھانے والوں کو شعور نہیں ہوتا ۔ایسے شخص کے لئے خرابی ہے جو خرابی میں مبتلا ہے لیکن اسے شعور نہیں ،وہ ہنستا اور خوش ہوتا ہے کھیل کود میں مبتلا ہے اور مذاق کرتا ہے' کھاتا اور پیتا ہے حالانکہ اﷲ تعالیٰ کے ہاں لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے کہ وہ اہل جہنم سے ہے۔
اے نفس ! تو دنیا کو عبرت کی نگاہ سے دیکھ اور اس کے لئے مجبوروں کی طرح کوشش کر اسے اپنے اختیار سے چھوڑ اور آخرت کی طلب میں جلدی کر ۔ان لوگوں میں سے نہ ہوجا جو اس چیز کا شکر ادا کرنے سے عاجز ہیں جو ان کو دی گئی اور باقی عمر میں زیادتی کے خواہش مند ہیں ۔وہ لوگوں کو منع کرتے ہیں اور خود باز نہیں آتے ۔
اے نفس ! جان لے دین کا کوئی عوض اور ایمان کا کوئی بدل نہیں اور نہ ہی جسم کا کوئی نائب ہے جس شخص کی سواری دن اور رات ہوں تو وہ اسے لے چلتے ہیں اگرچہ وہ نہ چلے۔
اے نفس ! اس نصیحت کو قبول کر اور اس سے فائدہ حاصل کر کیوں کہ جوشخص اس نصیحت سے منہ پھیرتا ہے وہ گویا جہنم پر راضی ہوتا ہے اور میں تجھے اس پرراضی نہیں دیکھتا ۔ اگر دل کی سختی تجھے اس نصیحت کی قبولیت سے روکتی ہے تو دائمی تہجد اور شب بیداری (جو کہ کسی نیک ماحول خصوصًا دعوت اسلامی مدنی ماحول میں بآسانی میسر آسکتی ہے)کے ذریعے اس پر مدد طلب کر اگر یہ نہ ہوسکے تو مسلسل روزے رکھ اگر اس سے بھی ختم نہ ہو ،تو لوگوں سے میل جول اور گفتگو کم کردے اگر اس سے بھی نہ جائے تو رشتہ داروں سے صلہ رحمی اور یتیموں پر نرمی اختیار کر (الحمد للہ (عزوجل) یہ تمام نعمتیں امیر اہلسنت مد ظلہ العالی کے مدنی انعامات پر عمل کرنے سے حاصل ہو سکتی ہیں)اور اگر اس سے بھی زائل نہ ہو تو جان لو کہ اﷲ تعالیٰ نے تمہارے دل پر مہر اور تالا