Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
141 - 325
ارے کمبخت ! کیا وہ تجھے دیکھنے والوں میں سب سے ہلکا معلوم ہوتا ہے تو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتا اور خود گھٹیا کاموں میں ملوث رہتا ہے، لوگوں کو اﷲ تعالیٰ کی طرف بلاتا اور خود اس سے بھاگتا ہے ۔دوسروں کو اﷲ تعالیٰ کی یاد دلاتا لیکن خود اسے بھول جاتا ہے۔ جب تو خود پاک نہیں ہے تو دوسروں کی پاکیزگی کی طمع کیوں کرتا ہے ۔

اے نفس ! اگر تجھے اپنی صحیح پہچان ہوجائے تو تو یہی گمان کرے کہ لوگوں کو جو مصیبت پہنچتی ہے وہ تیری نحوست ہے اے نفس! تو نے اپنے آپ کو شیطان کا گدھا بنالیا ہے وہ جہاں چاہتا ہے تجھے لے جاتا ہے اور تیرا مذاق اڑاتا ہے اس کے باوجود تو اپنے عمل پر خوش ہوتا ہے۔

اور اس میں وہ آفات ہیں کہ تو ان سے بچ جائے تو یہ بھی نفع ہے اور تو اپنے اعمال پر کیسے خوش ہوتا ہے حالانکہ تیری خطائیں اور لغزشیں بہت زیادہ ہیں اﷲ تعالیٰ نے شیطان کی ایک خطا کی وجہ سے اس پر لعنت بھیجی ہے اور وہ اس سے پہلے دو لاکھ سال اس کی عبادت کرچکا تھا اور اے نفس ! تو کس قدرغدّار ، بے حیا،جاہل اور گناہوں پر جرأت کرنے والا ہے کمبخت تو معاہدہ کرکے توڑ تا اور وعدہ کرکے دھوکہ دیتا ہے۔

اے کمبخت نفس ! تو ان خطاؤں کے باوجود اپنی دنیا بسانے پر لگا ہوا ہے گویا کہ تو یہاں سے کبھی نہیں جائے گا۔ کیا تو قبرستان والوں کو نہیں دیکھتا کہ وہ کیسے تھے ؟ انہوں نے بہت سامان جمع کیا،مضبوط محل بنائے اور بہت دور کی امید رکھی ،لیکن ان کا جمع شدہ مال تباہ و برباد ہوگیا ،مکانات قبروں میں بدل گئے اور ان کی امیدیں دھوکے میں بدل گئیں۔

اے نفس ! تجھے کیا ہوگیا ہے ؟کیا تو عبرت حاصل نہیں کرتا ان کے حالات کو دیکھتا نہیں ؟کیا تیرا خیال یہ ہے کہ ان کو توآخرت کی طرف بلایا گیا ہے اور تو ہمیشہ یہیں رہے گا۔ تو صرف اپنی عمر ضائع کررہا ہے اور تیری پیدائش سے اب تک یہ سلسلہ جاری ہے ۔تو زمین پر اپنے لئے عمارت بناتا ہے لیکن تھوڑی ہی مدت بعد زمین کے اندر تیری قبر ہوگی ۔کیا تجھے اس بات کا ڈر نہیں کہ جب جان گلے میں آکر رک جائے گی اور تیرے رب عزوجل کے فرشتے تیرے پاس آئیں گے جن کے رنگ سیاہ اور چہرے تیوری چڑھے ہوں گے۔ وہ تجھے عذاب کی خبر دیں گے۔ کیا اس وقت تجھے ندامت فائدہ دے گی یا تجھ سے غم قبول کیا جائے گا یا تیرے رونے پر ترس کھایا جائے گا۔

اے نفس ! بہت تعجب کی بات ہے تو ان سب باتوں کے باوجود بصیرت اور دانائی کا دعویٰ کرتا ہے ۔تیری دانائی تو یہ ہے کہ تو ہر دن مال کے زیادہ ہونے پر خوش ہوتا ہے کیونکہ اسے ہی دانائی سمجھتا ہے ۔لیکن عمر کے کم ہونے پر غمگین نہیں ہوتا حالانکہ مال کی زیادتی کیا فائدہ دے گی جب کہ عمر کم ہورہی ہو۔

اے نفس ! تو آخرت سے منہ پھیرتا ہے حالانکہ وہ تیری طرف بڑھ رہی ہے اور تو دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے حالانکہ