Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
140 - 325
اندھا ہوچکا ہے تو یہی سوچ کر اسے چھوڑ دے کہ دنیا کے شرکاء کثیر ہیں اور اس میں مشقت زیادہ ہے نیز یہ جلد فنا ہونے والی ہے۔ جب دنیا کا اکثر حصہ تجھے چھوڑ کر دوسروں کے  پاس جاتا ہے تو اس کے قلیل کو تو کیوں نہیں چھوڑتا؟ اگر دنیا تیرے پاس آئے تو خوش کیوں ہوتا ہے تمہارا شہر یہودیوں اور مجوسیوں کی ایسی جماعت سے خالی نہیں ہے جو دنیوی مال کے ذریعے تجھ سے آگے بڑھے ہوئے ہیں اور ان کے پاس دینوی نعمتیں اور زینت تیرے مقابلے میں زیادہ ہوگی ۔تو دنیا پر تُف ہے کہ اس کے ذریعے یہ نیچ لوگ بھی تجھ سے سبقت لے گئے ۔

توتو کس قدر جاہل ہے تیری قیمت کس قدر ہلکی ہے اور تیری رائے کس قدر گری ہوئی ہے کہ تو انبیاء کرام علیہم السلام اور صدیقین ثکی جماعت میں شامل ہونا نہیں چاہتا جو اﷲ تعالیٰ کے مقرب ہیں اور تمام جہانوں کے رب کے قرب میں ہمیشہ ہمیشہ رہتے ہیں تو ان لوگوں سے منہ موڑ کر بیوقوف جاہل لوگوں کی جوتیوں میں بیٹھنا چاہتا ہے حالانکہ یہ بھی چند دن کی بات ہے تو تجھ پر افسوس ہے کہ تیری دنیا اور دین دونوں برباد ہوگئے۔

اے نفس ! اب تو جلدی کر کیوں کہ موت سر پر آپہنچی ہے اور ڈرانے والا آموجود ہوا ہے تیرے مرنے کے بعد تیری طرف سے کون نماز پڑھے گا؟ تیرے انتقال کے بعد تیری طرف سے کون روزہ رکھے گا؟ اور تیرے مرنے کے بعد تیری طرف سے کون اﷲ تعالیٰ کو راضی کریگا۔

اے نفس ! تیری پونجی صرف چند دن ہیں ان میں تجارت کرلے اکثر دنوں کو تونے ضائع کردیا اگر تو اس ضائع ہونے والے پر زندگی بھر روتا رہے تب بھی تیرے نفس کے حق میں تھوڑا ہے تو اب باقی کو ضائع کرنے اور پرانی عادت کو اپنائے رکھنے کی صورت میں تیرا کیا بنے گا؟

اے نفس ! کیا تجھے معلوم نہیں ہے کہ موت کا تجھ سے وعدہ کیا گیا ہے ۔قبر تیرا گھر اور مٹی تیرا بچھونا ہے کیڑے تیرے ساتھی ہیں اور بہت بڑی آزمائش تیرے سامنے ہے۔

اے نفس ! کیا تجھے معلوم نہیں کہ مرُدوں کا لشکر شہر کے دروازے پر تیرا منتظر ہے ان سب نے پکی قسم کھائی ہے کہ وہ تجھے ساتھ لئے بغیر یہاں سے نہیں جائیں گے۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ وہ صرف ایک دن دنیا میں واپس آنا چاہتے ہیں تاکہ گزشتہ کوتاہی کا ازالہ کرسکیں لیکن انہیں یہ قدرت حاصل نہیں جبکہ تجھے یہ قدرت حاصل ہے ۔تیری زندگی کا ایک دن اگر تمام دنیا کے بدلے میں بیچا جائے تو وہ اسے ضرور خریدیں گے اگر اس پر قادر ہوں۔ اور تو غفلت اور بے کاری میں اپنے دنوں کو ضائع کررہا ہے ۔اے نفس! تجھ پر افسوس ہے کیا تجھے حیا نہیں آتی تو لوگوں کے لئے اپنے ظاہر کو سنوارتا ہے اور باطنی طور پر بڑے بڑے گناہوں کے ذریعے اﷲ تعالیٰ سے لڑتا ہے پھر یہ کہ تو مخلوق سے حیا کرتا ہے لیکن خالق لسے حیا نہیں کرتا۔