Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
139 - 325
اس کے لئے زمین میں قبر کھودی جا رہی ہوتی ہے۔ کیا دنیا میں کوئی شخص اس سے بڑا بیوقوف ہے؟ کوئی اپنی دنیا تعمیر کرتا ہے حالانکہ وہ یقینا اس سے کوچ کرنے والا ہے اور اپنی آخرت کو خراب کرتا ہے حالانکہ یقینی طور پر اس نے اسی کی طرف جانا ہے ۔اے نفس! کیا تجھے ایسے بیوقوفوں کی بیوقوفی اختیار کرتے ہوئے شرم نہیں آتی۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!سیدنا امام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ہمیں نصیحت کی چا شنی کچھ اس انداز میں پلاتے ہیں کہ فرض کرو تم بصیرت نہیں رکھتے کہ ان باتوں کی طرف راہنمائی حاصل کرو لیکن تم فطری طور پر کس طرف مائل ہو اور کس کی مشابہت چاہتے ہو تو انبیاء کرام علیہم السلام ،علماء عظام ث اور عقلمند لوگوں کی عقل اور ان لوگوں کی عقل جو دنیا پر اوندھے گرے ہوئے ہیں کے درمیان مقابلہ کرو اور تمہارے نزدیک جو زیادہ عقل مند ہوں ان کے پیچھے چلو ۔

اور اپنے نفس سے کہو ،اے نفس ! تیرا معاملہ کتنا عجیب اور تیری جہالت کتنی سخت ہے تیری سرکشی کس قدر ظاہر ہے تو کس طرح ان واضح اور روشن باتوں سے اندھا ہوچکا ہے ۔اے نفس ! شاید تجھے جاہ و مرتبہ کی چاہت نے نشے میں ڈال دیا ہے اور تو اس بات کو سمجھنے سے مدہوش ہوچکا ہے یا تو اس بات کو نہیں سمجھتا کہ جاہ و مرتبہ صرف اس بات کا نام ہے کہ بعض لوگوں کے دل تیری طرف مائل ہوں تو تم فرض کرلو کہ زمین پر جو لوگ بھی ہیں وہ تجھے سجدہ کرتے اور تیری اطاعت کرتے ہیں کیا تم نہیں جانتے کہ پچاس سال بعد نہ تو زمین پر رہے گا اور نہ وہ جنہوں نے تجھے سجدہ کیا اور تیری پوجا کی اور عنقریب ایک وقت آئے گا کہ نہ تیرا ذکر باقی رہے گا اور نہ تیرا ذکر کرنے والوں کی یاد باقی رہے گی جس طرح تجھ سے پہلے بادشاہوں کے ساتھ ہوا۔

ارشاد خداوندی ہے۔
ھَلْ تُحِسُّ مِنْھُمْ مِنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَھُمْ رِکْزًا۔
ترجمہ کنز الایمان : ''کیا تم ان میں کسی کو دیکھتے ہو یا ان کی بھنک سنتے ہو''(پارہ ۱۶سوره  مریم 'آیت ۹۸)

تو پھر اے نفس !تو کس طرح ہمیشہ رہنے والی چیز کے بدلے میں اسے بیچتا ہے جو پچاس سال سے زیادہ نہیں رہے گی ؟

اور یہ بھی اس صورت میں ہے جب تو زمین کابادشاہ بن جائے اور مشرق و مغرب تیری اطاعت کریں، گردنیں تیرے سامنے جھک جائیں اور تمام اسباب تیرے لئے منظم ہوجائیں اور اِس صورت میں کہ جب اپنے محلے بلکہ اپنے گھر کا معاملہ بھی تیرے قبضے میں نہ ہو تو اس صورت میں آخرت کو چھوڑنا کس قدر غلطی اور بیوقوفی ہے۔

اے نفس ! اگر تو اپنی جہا لت کی وجہ سے آخرت میں رغبت کی خاطر دنیا کو نہیں چھوڑتا اور تو بصیرت کے اعتبار سے
Flag Counter