دیکھے اور اسے نہ پہچانے اسکے لئے اسکا کھانا ممکن نہیں یونہی جو آگ کو نہ دیکھے تواسکا اس سے بھاگنا ممکن نہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور معرفت کو پیدا فرمایا اور اسکے لئے اسباب مہیا کئے۔
پھر اگر وہ غذا کو دیکھ اور جان لے کہ یہ اسکے لئے فائدہ مند ہوگی تو پھر بھی اسکے کھانے کے لئے اتنی بات کافی نہیں جب تک کہ اسے غذا کی طرف رغبت یا ایسی خواہش نہ ہو جو اسے غذا کھانے کی طرف ابھارے کیونکہ مریض غذا کو دیکھتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ یہ اسکے لئے فائدہ مند ہے لیکن رغبت اور میلان نہ ہونے کی وجہ سے کوئی توجہ نہیں دیتا۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسکی طرف رغبت 'میلان اور ارادہ پیدا فرمایا ہے یعنی بندے کے نفس میں شوق اور دل میں توجہ پیدا فرمادی ۔ لیکن اتنی بات بھی کافی نہیں کیونکہ کتنے ہی لوگ کھانے کو دیکھتے اور اس میں رغبت کرتے ہیں لیکن اپاہج ہونے کی بناء پر اسے حاصل کرنے سے عاجز رہتے ہیں لہٰذا آدمی کیلئے قدرت اور حرکت کرنے والے اعضاء پیدا کئے گئے تاکہ مقصود تک پہنچنا ممکن ہوسکے۔
خلاصہ یہ کہ اعضاء طاقت کے بغیر حرکت نہیں کرتے اور طاقت نِیّت یا ارادے کی منتظر ہوتی ہے یعنی دل میں یہ اعتقاد راسخ ہو جائے کہ یہ چیز میرے لئے فائدہ مند ہے تو جب پختہ اور مکمل پہچان حاصل ہو جاتی ہے کہ یہ کام کرنا فائدہ مندہے نیز اس کام سے روکنے والی کوئی شئے بھی موجود نہیں ہوتی تو اب ارادہ بیدار ہوتا ہے اور میلان یعنی دلچسپی ثابت ہوتی ہے اور جب ارادے میں حرکت ہوتی ہے تو قدرت اعضاء کو متحرک کرنے کے لئے حرکت میں آتی ہے۔
چنانچہ پتہ چلا کہ قدرت ارادے یعنی نِیّت کی خادمہ ہے اور ارادہ اعتقاد اور معرفت یعنی پہچان کے تابع ہے۔ لہٰذا نِیّت ایسی صفت کا نام ہوا جو اعتقاد،معرفت اور قدرت کے درمیان ہے۔( یعنی جب نفس کو یہ یقین ہو جاتا ہے کہ فلاں چیز میرے لئے فائدہ مند ہے تو پھر وہ اسے حاصل کرنے کا ارادہ یعنی نِیّت کرتا ہے اور ارادہ یا نِیّت قدرت کو حرکت میں لاتی ہے اور پھر اعضاء اس شئے کو حاصل کرنے کیلئے سرگرم ہو جاتے ہیں) گویا ارادہ نفس کا رغبت و میلان کی وجہ سے کسی فائدہ مند شئے کی جانب سر گرم ہونا ہے۔ خواہ وہ کام فی الحال فائدہ مند ہو یا مستقبل میں۔
پس پہلا محرک وہ غرض ہے جو نفس کو مطلوب ہے اور اسی کو باعث (خواہش پیدا کرنے والا)کہا جاتا ہے اور یہ غرض یا باعث وہ مقصد ہے جس کی نِیّت کی گئی اور سرگرمی نِیّت اور ارادے کا نام ہے اور قدرت کا اعضاء کو حرکت دینے کے ذریعے ارادے کی خدمت کے لئے سرگرم ہونا عمل کہلاتا ہے۔
(خلاصہ یہ کہ نفس جب اپنی غرض کے موافق کوئی شئے دیکھتا ہے تو اسے پانے کا ارادہ کرتا ہے پھر وہ ارادہ اعضاء کی طاقت کو متحرّک کرتا ہے اور پھر اعضاء اپنی قوت کے مطابق عمل کرنا شروع کردیتے ہیں۔)