یہ چیزیں اپنے لئے خریدتا ہے کیوں کہ اﷲ تعالیٰ نے ان چیزوں کو تیرے آرام کے لئے پیدا کیا ہے ۔تو اسی طرح عبادات اور مجاہدات سے بھی اﷲ تعالیٰ بے نیاز ہے وہ تو صرف تیرے لئے نجات کا راستہ ہے پس جو شخص نیکی کریگا تو اپنے لئے کریگا اور جو برائی کریگا تو اس کا نقصان بھی خود اسے برداشت کرنا ہوگا۔ اﷲ تعالیٰ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔
اے نفس ! جہالت سے باہر نکل اور آخرت کو دنیا پر قیاس کر ،میں دیکھتا ہوں کہ تو دنیا سے محبت کرتا ہے اور اسی سے مانوس ہے اس سے جدائی تجھ پر شاق گزرتی ہے بلکہ تو اپنے اندر اس کی محبت کو مضبوط کررہا ہے ۔ جان لے کہ تو اﷲ تعالیٰ کے عذاب اور ثواب سے غافل ہے اسی طرح قیامت کی ہولناکیوں اور اَہوال سے بھی بے خبر ہے کیاتو موت پر ایمان نہیں رکھتا جو تجھے تیری محبوب چیزوں سے جدا کردے گی ۔بتاؤ اگر کوئی شخص بادشاہ کے گھر میں داخل ہو کہ دوسری طرف سے نکل جائے گالیکن وہاں کسی خوبصورت چہرے پر نظر ڈالے اور اس کا دل مکمل اسی کی طرف متوجہ ہوجائے تو کیا یہ شخص عقل مند لوگوں میں شمار ہوگا؟ہر گز نہیں تو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ دنیا کا بازار بادشاہوں کے بادشاہ دنے تمہاری آزمائش کیلئے بنایاہے اور تمہیں تو صرف اس سے گزرنے کی اجازت ہے اور اس میں جو کچھ ہے وہ گزرنے والوں کو مرنے کے بعد ملے گا۔ اسی لئے نبی اکرم نور مجسم انے تعلیم امّت کیلئے ارشاد فرمایا۔