Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
138 - 325
یہ چیزیں اپنے لئے خریدتا ہے کیوں کہ اﷲ تعالیٰ نے ان چیزوں کو تیرے آرام کے لئے پیدا کیا ہے ۔تو اسی طرح عبادات اور مجاہدات سے بھی اﷲ تعالیٰ بے نیاز ہے وہ تو صرف تیرے لئے نجات کا راستہ ہے پس جو شخص نیکی کریگا تو اپنے لئے کریگا اور جو برائی کریگا تو اس کا نقصان بھی خود اسے برداشت کرنا ہوگا۔ اﷲ تعالیٰ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔

اے نفس ! جہالت سے باہر نکل اور آخرت کو دنیا پر قیاس کر ،میں دیکھتا ہوں کہ تو دنیا سے محبت کرتا ہے اور اسی سے مانوس ہے اس سے جدائی تجھ پر شاق گزرتی ہے بلکہ تو اپنے اندر اس کی محبت کو مضبوط کررہا ہے ۔ جان لے کہ تو اﷲ تعالیٰ کے عذاب اور ثواب سے غافل ہے اسی طرح قیامت کی ہولناکیوں اور اَہوال سے بھی بے خبر ہے کیاتو موت پر ایمان نہیں رکھتا جو تجھے تیری محبوب چیزوں سے جدا کردے گی ۔بتاؤ اگر کوئی شخص بادشاہ کے گھر میں داخل ہو کہ دوسری طرف سے نکل جائے گالیکن وہاں کسی خوبصورت چہرے پر نظر ڈالے اور اس کا دل مکمل اسی کی طرف متوجہ ہوجائے تو کیا یہ شخص عقل مند لوگوں میں شمار ہوگا؟ہر گز نہیں تو کیا تمہیں معلوم نہیں کہ دنیا کا بازار بادشاہوں کے بادشاہ دنے تمہاری آزمائش کیلئے بنایاہے اور تمہیں تو صرف اس سے گزرنے کی اجازت ہے اور اس میں جو کچھ ہے وہ گزرنے والوں کو مرنے کے بعد ملے گا۔ اسی لئے نبی اکرم نور مجسم انے تعلیم امّت کیلئے ارشاد فرمایا۔
اِنَّ رُوْحَ الْقُدْسِ نَغَثَ فِیْ رُوْحِیْ اَحْبِبْ مَنْ اَحْبَبْتَ فَاِنَّکَ مُفَاَرِقُہ' 

وَاعْمَلْ مَاشِئْتَ فَاِنَّکَ مَجْزِئٌ بِہٖ وَعِشْ مَاشِئْتَ فَاِنَّکَ مَیِّتٌ۔
ترجمہ : ''جبریل ں نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ جس سے محبت کرنا چاہتے ہیں کریں ۔عنقریب وہ آپ سے جدا ہوجائے گی اور جو عمل چاہیں کریں اس کا بدلہ دیا جائے گا اور جتنا چاہیں زندہ رہیں بالآخر دنیا سے جانا هے'' (العلل لمتناہیہ جلد ۲ ص ۴۰۳ حدیث ۱۴۸۱)

اے نفس !تجھے معلوم نہیں کہ جو شخص دینوی لذتوں کی طرف متوجہ ہوتا اور ان سے مانوس ہوتا ہے انہیں چھوڑتے وقت اسے بہت زیادہ حسرت ہوتی 

ہے ۔کیا تو ان لوگوں کو نہیں دیکھتا جو پہلے گزر گئے انہوں نے بلندو بالا مکانات بنائے پھر انہیں چھوڑ کر چلے گئے اور اﷲ تعالیٰ نے کس طرح ان کی زمین اور مکانات کا وارث ان کے دشمنوں کوبنایا ۔کیا تو ان کو نہیں دیکھتا کہ کس طرح وہ ان چیزوں کو جمع کرتے ہیں جنہیں کھانا ا نہیں نصیب نہیں اور ایسی عمارتیں بناتے ہیں جن میں رہنا انکی قسمت میں نہیں اور ایسی چیزوں کی امید رکھتے ہیں جن کو حاصل کرنا انکی قدر ت میں نہیں۔

بعض اوقات انسان تو ایسے بلند محلات کی تمنّا کر رہا ہوتا ہے جو آسمان سے باتیں کرتے ہوں جبکہ عین اسی وقت
Flag Counter