ترجمہ : ''سمجھ دار شخص وہ ہے جو اپنے نفس کو قابو میں رکھتا ہے اور موت کے بعد کے لئے عمل کرتا ہے جب کہ بیوقوف وہ ہے جو اپنے نفس کو خواہشات کے پیچھے لے جاتا ہے اور اﷲ تعالیٰ سے من مانی مرادیں طلب کرتا ہے''۔(مسند امام احمد بن حنبل جلد ۴ ص ۱۲۴ مردیات شداد بن اوس)
اے نفس ! تجھے دنیا کی زندگی سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے اور نہ ہی اﷲ تعالیٰ کے بارے میں کوئی دھوکہ ہونا چاہئے تو اپنی فکر کردوسروں کا معاملہ تیرے لئے اہم نہیں ہے زندگی کو ضائع نہ کرسانسیں گنی جا چکی ہیں ۔جب ایک سانس چلا جاتا ہے تو تیری مہلت میں کچھ نہ کچھ کمی ہی ہوتی ہے ۔بیماری سے پہلے صحت کو' مصروفیت سے پہلے فراغت کو' محتاجی سے پہلے مال داری کو' بڑھاپے سے پہلے جوانی کو اور موت سے پہلے زندگی کو غنیمت جان۔
جس قدر تو آخرت میں رہے گا اس کے مطابق تیاری کر۔ اے نفس ! کیا تو سردیوں کے لئے تیاری نہیں کرتا اس مدت کے لئے رزق' لباس' لکڑیاں اور باقی تمام سامان اکٹھا نہیں کرتا ؟تو اس سلسلے میں تومحض اﷲ تعالیٰ کے فضل پر بھروسہ کیوں نہیں کرتا کہ وہ کسی جُبے' اُون اور لکڑی کے بغیر تجھ سے سردی کی تکلیف دور کردے حالانکہ وہ اس پر قادر ہے۔
اے نفس ! کیا تیرا خیال یہ ہے کہ زمہریر (جہنم کے ٹھنڈے طبقے) میں سردی کم ہوگی اور موسم سرما کے مقابلے میں اس کا وقت بھی تھوڑا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔؟
کیا تیرا خیال یہ ہے کہ بندہ کسی محنت کے بغیر اس سے نجات پالے گا ہرگز نہیں سردیوں کے موسم کی شدت جیسے' آگ اور دیگر اسباب کے بغیر دور نہیں ہوتی اسی طرح جہنم کی گرمی اور ٹھنڈک سے بچنے کے لئے توحید کے قلعے اور عبادات کی خندق کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ تو اﷲ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے تمہیں قلعہ بند ہونے کا طریقہ سکھادیا اور اس کے اسباب کو آسان کردیا۔رحمت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ قلعے کے بغیر تجھ سے عذاب کو دور کردے جیسے اﷲ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے آگ کو پیدا کیا اور اس کے ذریعے سردی کی ٹھنڈک کو دور کردیا اور تجھے لوہے اور پتھر کے درمیان سے آگ نکالنے کا طریقہ بتایا یہاں تک کہ تو اس سے اپنے آپ سے ٹھنڈک کو دور کرتا ہے اور جس طرح جبہ اور لکڑیاں وغیرہ خریدنے سے تیرا خالق و مالک بے نیاز ہے اورتو