Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
134 - 325
جبکہ آخرت کے بارے میں ارشاد فرمایا۔
وَ اَنۡ لَّیۡسَ لِلْاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾
ترجمہ : ''اور انسان کے لئے وہی کچھ ہے جو اس نے کمایا''

تو اﷲ تعالیٰ نے دنیاوی معاملات کو خاص طور پر اپنے ذمہ لیا ہے اور تجھے اس کی سعی سے الگ رکھا لیکن تو نے اپنے افعال سے (معاذاﷲ )اسے جھوٹا قرار دیا کہ تو اس (دنیا) پر مد ہوش اور فریفتہ آدمی کی طرح گرتا ہے جب کہ آخرت کا معاملہ تیری محنت کے سپرد کیا ہے اور تو اس سے اس طرح منہ پھیرتا ہے جس طرح مغرور اور حقیر جاننے والا کرتا ہے یہ ایمان کی علامات نہیں ہیں اگر ایمان محض زبانی ہوتا تو منافق جہنم کے سبب سے نچلے گڑھے میں کیوں جاتے۔

اے نفس ! تجھ پر افسوس ہے کیا تو آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اور تیرا خیال یہ ہے کہ جب مرجائے گا تو تجھے رہائی مل جائے گی اور تیری جان چھوٹ جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔

اے نفس ! کیا تیرا خیال ہے کہ تجھے بیکار چھوڑ دیا جائے گا' کیا تو اپنی پیدائش سے پہلے ایک نطفہ نہ تھا پھر جما ہوا خون بنا تو اس رب کریم (عزوجل) نے تجھے ٹھیک ٹھیک بنایا تو کیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ مُردوں کو (دوبارہ) زندہ کرے۔

اگر تیرا یہی عقیدہ ہے تو تجھ سے بڑھ کر کافر اور جاہل کون ہے ؟ کیا تو غور وفکر نہیں کرتا کہ اﷲ تعالیٰ نے تجھے کس چیز سے بنایا ۔تجھے نطفے سے بنا کر تجھے مناسب جسم اور قدو قامت عطا فرمائی پھر تیرے لئے راستے کو آسان کیا پھر تجھے موت دے کر قبر میں پہنچائے گا کیا تو اسی کی نافرمانی کرتا ہے ۔؟

اے نفس !اگر تو اسے جھٹلاتا نہیں ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ گناہوں سے پرہیز نہیں کرتا اگر کوئی یہودی تجھے اس کھانے کے بارے میں جو تیرے لئے زیادہ لذیذ ہے یہ کہے کہ یہ تیری بیماری میں نقصان دہ ہے تو تو اس سے رک جاتا ہے ،اسے چھوڑ دیتا ہے اور اپنے نفس کو مشقت میں ڈال دیتا ہے ۔تو کیا انبیاء کرام (علیہم السلام )کا قول اور اﷲ تعالیٰ کا ارشاد' تیرے نزدیک یہودی کے قول سے بھی کم اہمیت کا حامل ہے جو تو انہیں چھوڑ کر اپنے آپ کو عقل کل سمجھتا ہے اور من مانے طریقے پر زندگی گزار رہا ہے ۔

تعجب کی بات ہے اگر کوئی بچہ تمہیں کہہ دے کہ تمہارے کپڑوں میں بچھو ہے تو تم اس کپڑے کو اتار پھینکتے ہو اور بچے سے کسی دلیل کا مطالبہ نہیں کرتے ۔تو کیا انبیاء کرام علیہم السلام ،علماء عظام، حکماء اور اولیاء کرام  کے اقوال تمہارے نزدیک اس بچے کی بات سے کم حیثیت رکھتے ہيں ۔یا جہنم کی گرمی، اس کے طوق، عذاب ،گرز، تھوہر، پیپ،گرم ہوا، سانپ اور بچھو تمہارے نزدیک اس دنیا کے مقابلے میں معمولی ہیں ۔
Flag Counter