Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
135 - 325
اے میرے نفس!یہ عقل مند لوگوں کے طور طریقے نہیں ہیں بلکہ اگر جانوروں پر تمہاری حالت ظاہر ہو تو وہ تم پر ہنسیں اور تمہاری عقل کا مذاق اڑائیں ۔۔۔۔۔۔ اگر تجھے ان تمام باتوں کی پہچان ہے اور تو ایمان بھی رکھتا ہے تو پھر عمل میں کوتاہی کیوں کرتا ہے ؟جب کہ موت تیرے انتظار میں ہے ۔ہوسکتا ہے وہ کسی مہلت کے بغیر تجھے اچانک آلے تو توموت کے جلدی آنے سے کس طرح بے خوف ہے؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!امام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) مزیدا رشاد فرماتے ہیں۔ اگر تمہیں عمل کے لئے سو سال بھی مل جائيں تو تمہارا کیا خیال ہے کہ جو شخص گھاٹی کے دامن میں جانور کو چارہ دیتا رہے کیا وہ سفر کی مشقتیں اٹھائے بغیر ہی منزل پر پہنچ جائے گا ؟ جیسے کہ تم اگر نفس کو سو سال بھی چارہ کھلاتے رہو لیکن عمل کرنے کی ترغیب نہ دلاؤ تو کیا نجات پا جاؤ گے۔

نفس سے کہوکہ اگر تیرا یہ خیال ہے تو توبہت بڑا جاہل ہے ۔اس شخص کے بارے میں تیراکیا خیال ہے کہ جو اس لئے سفر کرتا ہے کہ وہ فقہ سیکھے اب وہ دوسرے ملک میں کئی سال بیکار رہتا ہے اور اپنے نفس سے وعدہ کرتا ہے جب وہ گھر کی طرف لوٹے گا تو آخری سال میں فقہ سیکھ لے گا ۔تو اس شخص کی عقل پر تجھے ہنسی نہیں آئے گی ؟کہ وہ تھوڑی سی مدت میں فقہ حاصل کرنا چاہتا ہے یا اس کا خیال ہے کہ وہ فقہ سیکھے بغیر محض اﷲ تعالیٰ کے کرم سے فقہاء کرام کا منصب پالے گا۔ پھر یہ کہ آخری عمر کی کوشش نفع دے گی اور وہ بلند درجات پائے گا۔

اے نفس ہوسکتا ہے کہ آج کا دن تیری زندگی کا آخری دن ہو تو اب اس کی تیاری میں کیوں مشغول نہیں ہوتا اگر تجھے مہلت کا پروانہ مل بھی گیا ہو تو جلدی کرنے میں کیا رکاوٹ ہے اور لیت ولعل سے کام لینے میں کیا حکمت ہے بات یہی ہے کہ تو اپنی خواہشات کی مخالفت سے عاجز ہے کیوں کہ اس میں تھکاوٹ اور مشقت ہے ۔

کیا تو اس دن کا منتظر ہے جب خواہشات کی مخالفت مشکل نہ ہو؟یاد رکھ اﷲ تعالیٰ نے ایسا دن پیدا نہیں فرمایا اور نہ ہی پیدا کریگا۔ اور جنت اسی صورت میں حاصل ہوتی ہے جب آدمی مشکل باتوں کو اپنائے اور یہ مشکل امور نفس پر کبھی بھی آسان نہیں ہوتے ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !امام غزالی  ہمیں سمجھاتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ کیا تم غور نہیں کرتے کہ تم کب سے اپنے نفس سے وعدہ کررہے کہ کل عمل کروں گا، کل کروں گا اور وہ کل آج میں بدل گیا ۔ کیا تم نہیں جانتے کہ جو کل آیا اور چلا گیا وہ گزشتہ کل میں تبدیل ہو گیا ۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم آج عمل کرنے سے عاجز ہو تو کل زیادہ عاجز ہوگے کیونکہ خواہش اس درخت کی طرح ہے جو زمین میں پختہ ہوچکا ہے اور بندہ اس کو اکھاڑنے سے عاجز ہے جب وہ کمزوری کی وجہ سے اسے اکھاڑ نہیں سکتا اور اسے مؤخر کردیتا ہے تو وہ اس آدمی کی طرح ہوجاتا ہے کہ جو درخت کو اکھاڑنے سے جوانی میں