| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
ڈوبنے سے بچ سکتے ہو تو کیا تمہارے دل میں یہ خیال آئے گا کہ مصیبت جب سب پر آئے تو خوشی خوشی برداشت ہوجاتی ہے اور جو سب کے ساتھ ہو گا وہ ہمارے ساتھ بھی ہو جائے گا لہٰذا اس میں فکر کی کیا بات ہے تو میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! کیا آپ وہی کچھ کریں گے جو عام لوگ کر رہے ہیں یا اس صورت میں ان کی موافقت چھوڑ دیں گے ان کے احتیاط نہ کرنے کو بیوقوفی سمجھتے ہو ئے خود کو بچانے کی کوشش کریں گے ۔تو جب آپ ڈوبنے کے خوف سے اہل زمانہ کی موافقت چھوڑ دیتے ہیں حالاں کہ ڈوبنے کا عذاب ایک گھڑی سے زیادہ نہیں ہوتا تو اس عذاب سے کیوں نہیں بچتے جو دائمی ہوگا ۔یہ بات صحیح نہیں کہ جب مصیبت عام ہو تو اچھی معلوم ہوتی ہے جہنمیوں کو یہ مہلت کہاں ملے گی کہ وہ عموم و خصوص کی طرف متوجہ ہوسکیں اور کفار بھی اپنے زمانے کے لوگوں کی اندھی موافقت کی وجہ سے ہلاک ہوئے جب انہوں نے کہا۔
اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّۃٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ مُّقْتَدُوۡنَ ﴿۲۳﴾
ترجمہ کنز الایمان: ''ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر کے پیچھے ہیں'' (پارہ۲۵' سورہ زخرف ' آیت ۲۳) چنانچہ جب آپ اپنے نفس کو جھڑکنے میں مشغول ہوں اور اسے مجاہدہ کی تلقین کریں اور وہ آپ کی بات نہ مانے تو آپ پر لازم ہے کہ اس کو جھڑکنے سے باز نہ رہیں اور اسے بتاتے رہیں کہ یہ نافرمانی تیرے حق میں بری ہے ہوسکتا ہے وہ سرکشی سے باز آجائے۔
فصل ۔۔۔۔۔۔ ۶ چھٹی نگہداشت ۔۔۔۔۔۔نفس کو جھڑکنا اور اس پر غصہ کرنا:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس مرحلے پر امام غزالی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں۔جان لو کہ تمہارا سب سے بڑا دشمن تمہارا نفس ہے جو تمہارے پہلو میں ہے اور اسکا کام ہی یہ ہے کہ وہ برائی کا حکم دیتا ہے، شرکی طرف مائل ہے اور نیکی سے بھاگتا ہے اور تمہیں اس کو پاک اور سیدھا رکھنے کا حکم دیا گیا ہے نیز یہ کہ تم اسے زبردستی کی زنجیروں میں جکڑ کر اس کے رب اور خالق کی عبادت کی طرف لے جاؤ، اسے خواہشات اور لذات سے روکو۔اگر تم نے اسے کھلی چھٹی دی تو وہ سرکش ہوجائے گا اور یوں بھاگ جائے گا کہ پھر تمہارے ہاتھ نہیں آئے گا۔ تمہیں چاہئے کہ اسے مسلسل جھڑکتے رہو ڈانٹ ڈپٹ اور ملامت کرتے رہو تو یہی نفس' ملامت کرنے والا (نفس لواّمہ) بن جائے گا جس کی اﷲ تعالی نے قسم ارشاد فرمائی ہے اور اس بات کی بھی امید ہے کہ آئندہ اسی طرح ڈانٹ ڈپٹ