Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
130 - 325
تیری عذاب سے ڈرنہ ہوتا اور اگر مجھے تیرے کرم کی پہچان نہ ہوتی تو میں تیرے ثواب کی امید نہ کرتی۔

حضرت سیدنا خواص (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ہم حضرت سیدتنارحلہ عابدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے اور وہ روزے رکھ رکھ کر سیاہ ہوچکی تھیں اور اس قدر روتی تھیں کہ آنکھوں کی بینائی چلی گئی تھی اور نماز پڑھتے پڑھتے وہ چلنے پھرنے سے عاجز ہوگئی تھیں وہ بیٹھ کر نماز پڑھتی تھیں۔ ہم نے انہیں سلام کیا پھر اﷲ تعالیٰ کے عفوو درگزر کا کچھ بیان کیا تاکہ ان پر معاملہ آسان ہوجائے انہوں نے یہ بات سن کر ایک چیخ ماری پھر فرمایاکہ مجھے اپنے نفس کا علم ہے اور اس نے میرے دل کو زخمی کردیا ہے اور جگر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے اﷲ کی قسم میں چاہتی ہوں کہ کاش مجھے اﷲ تعالیٰ نے پیدا نہ کیا ہوتا اور میرا ذکر نہ ہوتا پھر وہ نماز کی طرف متوجہ ہوگئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہمیں چاہئے کہ عبادت میں خوب کوشش کرنے والے مردوں اور عورتوں کے حالات کا مطالعہ کیا کریں تاکہ عبادت کا ذوق بڑھے اور رب کی محبت زیادہ ہو' اپنے زمانے کے لوگوں کو نہ دیکھیں کیوں کہ ارشاد خداوندی ہے۔
وَ اِنۡ تُطِعْ اَکْثَرَ مَنۡ فِی الۡاَرْضِ یُضِلُّوۡکَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللہِ ؕ
ترجمہ کنز الایمان:''اور اے سننے والے! زمین میں اکثر وہ ہیں کہ تو ان کے کہے پر چلے تو تجھے اللہ کی راہ سے بہکا دیں'' ( پارہ۸ ' سوره  انعام' آیت ۱۱۷)

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! عبادت میں خوب محنت کرنے والے لوگوں کے واقعات بے شمار ہیں عبرت والوں کے لئے اتنا کافی ہے جو ہم نے لکھااور اگر آپ اس سے بھی زیادہ حالات معلوم کرنا چاہیں تو '' حلیۃ الاولیاء '' (کتاب) کا مطالعہ کریں یہ کتاب بزرگانِ دین  کے حالات پر مشتمل ہے اس کتاب کے مطالعہ سے آپ کو پتہ چلے گا کہ ہم اور ہمارے زمانے کے لوگ اہل دین سے کس قدر دور ہیں۔ پھر اگر آپ کانفس اپنے زمانے کے لوگوں کی پیروی کرنے کامشورہ دے اور یہ دلیل دے کہ آج کل تو اس کے بغیر گزارا نہیں ہوسکتا اسکے علاوہ اگر زمانے والوں کی مخالفت کرو گے تو لوگ تمہیں مجنون کہیں گے اور تمہارا مذاق اڑائیں گے لہٰذا جیسے یہ کرتے ہیں تم بھی کرواگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچی بھی تو جو جیسا سب کے ساتھ ہوگا وہ تمہارے ساتھ بھی ہو جائیگاتو اس میں فکر کی کیا بات ہے کیونکہ جب مصیبت میں سب مبتلا ہوں تو اچھی لگتی ہے ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں نفس کی اس دلیل سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے اور نہ ہی اس کے دام تزویر میں پھنسنا چاہئے بلکہ اس سے کہنا چاہئے کہ بتاؤ اگر کوئی بڑا سیلاب آجائے جو تمام شہر والوں کو غرق کردے اور وہ حقیقت حال سے بے خبری کی وجہ سے وہاں ہی ٹھہرے رہیں اور بچاؤ کی کوئی تدبیر اختیار نہ کریں جب کہ تم ان سے جدا ہو کر کشتی کے ذریعے
Flag Counter