Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
129 - 325
ہے' پھر اس نے منہ پھیر لیا حضرت سیدنا ابن العلاء فرماتے ہیں آنے والوں نے کہا چلئے اﷲ کی قسم ! یہ ایسی حالت میں ہے جس میں ہم نہیں ہیں۔

حضرت سیدنا معاذہ عدویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا طریقہ مبارکہ تھا کہ جب دن نکلتا تو کہتیں یہ میری موت کا دن ہے اور وہ شام تک کھانا نہ کھاتیں پھر جب رات آتی تو کہتیں یہ وہ رات ہے جس میں میں مرجاؤں گی چنانچہ وہ صبح تک نماز میں مشغول رہتیں۔

حضرت سیدنا ابو سلیمان دارانی رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں میں ایک رات حضرت سیدتنا رابعہ بصریہ رحمہا اﷲ تعالیٰ کے ہاں ٹھہرا وہ اپنے محراب میں کھڑی ہوئی تو میں مکان کے ایک کونے میں کھڑا ہوگیا وہ سحری تک کھڑی رہیں سحری کا وقت ہوا تو میں نے کہا جس نے ہمیں اس رات میں کھڑا ہونے کی قوت دی اس کا شکر کس طرح ادا کیا جائے انہوں نے فرمایا اس کا شکر یوں ادا کرو کہ کل دن کو روزہ رکھو۔

حضرت سیدتنا شعوانہ رحمہا اﷲ تعالی یوں دعا کیا کرتی تھیں یا اﷲ ! مجھے تیری ملاقات کا بہت شوق ہے اور مجھے تیری طرف سے جزا کی بہت بڑی امید ہے تو وہ کریم ہے کہ تیرے ہاں امیدواروں کی امیدیں نہیں ٹوٹتیں اور نہ شوق رکھنے والوں کا شوق باطل ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ یا اﷲ ! اگر میری موت کا وقت قریب آچکا ہے اور میرے عمل نے مجھے تیرے قریب نہیں کیا تو مجھے اپنے گناہ کا اعتراف ہے جس کا سبب میری دلی بیماریاں ہیں اگر تو معاف کردے تو تجھ سے بڑھ کر اس کے لائق کون ہے اور اگر تو عذاب دے تو تجھ سے زیادہ عدل کرنے والا کون ہے یا اﷲ ! میں نے اپنے نفس کی طرف نظر کی تو اس پر ظلم کیا اب اس کے لئے تیری نظر کرم کی امید باقی ہے اگر وہ اس سے سعادت مندی حاصل نہ کرسکے تو اس کے لئے ہلاکت ہے۔

یا اﷲ ! تو نے میری زندگی میں ہمیشہ مجھ سے اچھا سلوک کیا اب میری موت کے بعد اس حسن سلوک کو منقطع نہ کرنا مجھے اس ذات سے امید ہے جس نے میری زندگی میں مجھ پر احسانات کئے کہ وہ میری موت کے وقت مجھے بخش دے گا۔

یا اﷲ ! میں اپنی موت کے بعد تیرے حُسنِ سلوک سے کس طرح نا امید ہوجاؤں جب کہ میری زندگی میں تو نے ہمیشہ اچھا سلوک فرمایا ' یا اﷲ ! اگر میرے گناہوں نے مجھے ڈرایا ہے تو تیری محبت نے مجھے اطمینان دلایا ہے یا اﷲ میرے ساتھ ایسا معاملہ کر جو تیری شان کے لائق ہے اور اس شخص پر اپنا فضل لوٹا دے جسے اس کی جہالت نے دھوکے میں ڈالا ہے الٰہی ! اگر تو نے مجھے رسوا کرنا ہوتا تو تو مجھے ہدایت نہ دیتا اور اگر تو نے مجھے ذلیل کرنا ہوتا تو میری پردہ پوشی نہ فرماتا تو نے جس سبب سے یعنی محض اپنے لطف و کرم سے مجھے ہدایت عطا فرمائی ہے اس سے مجھے بہرہ ور فرما اور میری پردہ پوشی کو دائمی کردے یا اﷲ ! میں نے جس امید میں عمر کاٹی ہے میں خیال نہیں کرتی تو اسے رد کردے گا یا اﷲ ! اگر میں نے گناہ نہ کیا ہوتا تو مجھے