Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
128 - 325
؟ اس نے کہا نہیں ۔میں نے کہا کیوں ؟ اس نے کہا اس لئے کہ رونا دل کا آرام ہے میں اس کی بات پر متعجب ہو کر خاموش ہوگیا۔

حضرت سیدنا احمد بن علی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ہم نے حضرت سیدتنا عفیرہ رضی اﷲ عنہا کے پاس جانے کی اجازت چاہی تو انہوں نے ہمیں اجازت نہ دی ہم دروازے پر کھڑے رہے جب انہیں علم ہوا تو وہ ہمارے لئے دروازہ کھولنے آئیں میں نے سنا وہ کہہ رہی تھیں۔

یا اﷲ ! میں اس شخص سے تیری پناہ چاہتی ہوں جو آکر مجھے تیرے ذکر سے روک دے پھر انہوں نے دروازہ کھولا اور ہم اندر داخل ہوئے ہم نے کہا اے اﷲ کی بندی ! ہمارے لئے دعا کر۔انہوں نے کہا اﷲ تعالیٰ میرے گھر میں تمہاری مہمانی مغفرت سے کرے پھر کہا حضرت سیدنا عطاء سلمی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) چالیس سال تک ٹھہرے وہ آسمان کی طرف نہیں دیکھتے تھے ان سے ایک نگاہ میں خیانت ہوگئی تو وہ بیہوش ہو کر گر پڑے چنانچہ ان کے پیٹ میں زخم ہو گیا ۔کاش عفیرہ اپنا سر اٹھائے اور نافرمانی نہ کرے اور کاش اگر اس سے نافرمانی سرزد ہوتو دوبارہ نہ کرے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ایک بزرگ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں '' ایک دن بازار میں گیا اور میرے ساتھ ایک حبشی لونڈی تھی میں نے اسے بازار کے ایک کنارے پر ٹھہرایا اور خود اپنے کام کے لئے چلا گیا میں نے کہا میری واپسی تک یہاں سے نہ ہٹنا فرماتے ہیں واپس آیا تو وہ وہاں نہ تھی میں گھر آگیا اور مجھے بہت غصہ آرہا تھا اس نے مجھ دیکھا تو میرے غصے کو بھانپ گئی کہنے لگی اے میرے آقا مجھ پر غصہ نہ کیجئے آپ نے مجھے ایسی جگہ ٹھہرایا جہاں میں نے اﷲ تعالیٰ کا ذکر نہ دیکھا تو مجھے ڈر ہوا کہ کہیں یہ جگہ زمین میں نہ دھنس جائے '' وہ بزرگ فرماتے ہیں '' مجھے اس کی بات بہت اچھی لگی اور میں نے کہا تو آزاد ہے'' اس نے کہا یہ آپ نے اچھا نہیں کیا میں آپ کی خدمت کرتی تھی تو مجھے دو اجر ملتے تھے ایک آپ کی خدمت کا اور ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کا ۔لیکن اب ان میں سے ایک اجر سے میں محروم ہوگئی۔

حضرت سیدنا ابن علاء سعدی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں میری ایک چچا زاد بہن تھی وہ عبادت گزار تھی اور قرآن مجید کی تلاوت بہت زیادہ کرتی تھی۔ جب وہ کسی ایسی آیت پر پہنچتی جس میں جہنم کا ذکر ہوتا تو روپڑتی۔ مسلسل رونے کی وجہ سے اس کی بینائی جاچکتی تھی۔ اس کے چچا زاد بھائیوں نے آپس میں کہا چلو چل کر اس کو زیادہ رونے پر سمجھائیں ۔

فرماتے ہیں جب ہم اس کے پاس پہنچے تو ہم نے کہا اے بَرِیْرَہ ! کیسی ہو ؟ اس نے کہا مہمان ہیں جو اجنبی زمین میں پڑے ہیں اس انتظار میں ہیں کہ کب بلاوا آئے اور ہم اسے قبول کریں ۔ہم نے کہا یہ رونا کب تک رہے گا تمہاری بینائی تو زائل ہوگئی اس نے کہا اگر اﷲ تعالیٰ کے ہاں ان آنکھوں کے  لئے بھلائی نہیں ہے تو اس سے بھی زیادہ رونے کی ضرورت