میں بیدار ہوا تو دیکھا کہ وہ موجود نہیں میں اسے تلاش کرنے کے لئے اٹھا تو دیکھا کہ وہ حالتِ سجدہ میں کہہ رہی ہے۔
یا اﷲ ! تجھے مجھ سے جو محبت ہے اس کے صدقے میں میرے گناہ معاف کردے میں نے کہا یہ نہ کہو کہ اپنی محنت کے صدقے میں' بلکہ یوں کہو کہ مجھے تجھ سے جو محبت ہے اس کے صدقے میں میرے گناہ بخش دے ۔اس نے کہا اے میرے آقا ! اس طرح نہیں بلکہ وہی مجھ سے محبت رکھتا ہے اس نے مجھے شرک سے نکال کر اسلام کی دولت سے مالا مال کیا اور اسی محبت کی وجہ سے جو اسے مجھ سے ہے وہ مجھے اس وقت بیدار رکھتا ہے جب کہ بے شمار لوگ سوئے ہوئے ہوتے ہیں۔
حضرت سیدنا ابو ہاشم قرشی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں یمن کی ایک اسلامی بہن جس کو سَرِیر کہا جاتا تھا ہمارے ہاں آکر ٹھہری میں رات کے وقت اس کی فریاد اور آہ وزاری سنا کرتا تھا ایک دن میں نے خادم سے کہا ذرا جھانک کر دیکھو یہ خاتون کیا کرتی ہیں فرماتے ہیں اس نے جھانکا تو دیکھا کہ وہ کچھ بھی نہیں کرتیں البتہ اپنی نظر آسمان کی طرف سے نہیں ہٹاتیں اور قبلہ رخ بیٹھی ہوئی ہیں اور کہہ رہی ہیں۔
''یا اﷲ ! تو نے سریر کو پیدا کیا پھر اپنی نعمت سے اسے غذادی اور ایک حال سے دوسرے حال میں رکھا تیری طرف سے پہنچنے والی تمام حالتیں اس کے لئے اچھی ہیں اور تیری طرف سے پہنچنے والی تمام تکالیف خوشگوار ہیں اور اس کے باوجود یہ تیری ناراضگی والے کام کرتی ہے اور اس نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر تیری نافرمانی کی۔ کیا تو جانتا ہے کہ اس نے یہ گمان کیا ہوگا کہ تو اس کے بُرے افعال کو نہیں دیکھتا حالانکہ تو جاننے والا خبر رکھنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے''۔
حضرت سیدنا ذوالنون مصری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں میں ایک رات وادی کنعان سے نکلا جب وادی کے اوپر گیا تو دیکھا کہ ایک سیاہ چیز میری طرف آرہی ہے اور وہ یہ آیت پڑھ رہی ہے۔