سحری کا وقت ہوتا توایک درد بھری آواز میں کہتیں عبادت گزار لوگوں نے تیرے لئے رات کی تاریکی کو برداشت کیا وہ تیری رحمت فضل اور مغفرت کی طرف سبقت کرتے ہیں یا اﷲ (عزوجل)! میں تیرے ہی نام پر تجھ سے سوال کرتی ہوں کہ تو مجھے سبقت کرنے والوں کی جماعت میں سے صفّ اول کے لوگوں میں شامل کرلے اور اپنے ہاں اعلیٰ علیّین میں مقربین کے درجے میں جگہ دے اور اپنی عبادت کے صدقے مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملادے تو سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔اسی طرح فجر تک روتیں اور دعا مانگتی رہتیں۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا یحیٰ بن بسطام (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں میں مشہور عابدہ سیدتنا شعوانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا(نامی خاتون) کے ہاں حاضر ہوتا اور اس کے رونے اور آہ وزاری کو دیکھتا ایک دن میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ جب یہ تنہا ہوں تو ہم اُن کے پاس جا کر کہیں گے کہ وہ اپنے نفس سے نرمی کا سلوک کریں اس نے کہا جیسے آپ کی مرضی' فرماتے ہیں پھر ہم ان کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ اگر آپ اپنے نفس سے نرمی برتیں اور اس رونے کو کم کردیں تو یہ بات آپ کی مراد پر زیادہ معاون ہوگی' فرماتے ہیں وہ رونے لگیں پھر کہا اﷲ کی قسم ! میں چاہتی ہوں کہ اتنا روؤں کہ تمام آنسو ختم ہوجائیں پھر میں خون کے آنسوروؤں یہاں تک کہ میرے جسم کے کسی حصہ میں بھی خون کا ایک قطرہ باقی نہ رہے پھر اپنے رونے کو کم سجھتے ہوئے کہنے لگیں میں کب روتی ہوں؟ میں کب روتی ہوں ؟ وہ بار بار یہ الفاظ کہتی رہیں حتی کہ ان پر غشی طاری ہوگئی۔
حضرت سیدنا محمد بن معاذ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں مجھ سے ایک عبادت گزار اسلامی بہن نے بیان کیا وہ فرماتی ہیں میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل کی گئی ہوں وہاں کیا دیکھتی ہوں کہ تمام جنتی اپنے دروازوں پر کھڑے ہیں میں نے کہا اہل جنت کو کیا ہوا کہ وہ اس طرح کھڑے ہیں ؟ کسی کہنے والے نے مجھے بتایا کہ یہ سب اس خاتون کو دیکھنے کے لئے باہر آئے ہیں جس کی آمد پر جنتوں کو سجایا گیا ہے میں نے کہا وہ خاتون کون ہیں ؟ مجھے بتایا گیا کہ وہ ایک سیاہ فام لونڈی ہے جو مقام ''ایکہ ''کی رہنے والی ہے اور اسے شعوانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکہا جاتا ہے۔
میں نے کہا وہ تو میری بہن ہیں فرماتی ہیں میں اسی حالت میں تھی کہ وہ ایک اونٹنی پر سوار ہوا میں اڑتی ہوئی پہنچ گئی جب میں نے اسے دیکھا تو میں نے آواز دی اے میری بہن ! ۔وہ میری طرف دیکھ کر مسکرائیں اور کہا کہ ابھی تمہارے آنے کا وقت نہیں ہوا لیکن میری طرف سے دو باتیں یاد رکھناایک یہ کہ اپنے دل کو غمگین رکھنا اور دوسری بات یہ کہ اﷲ تعالیٰ کی محبت کو اپنی خواہش پر مقدم رکھنا اگر تم نے ایسا کیا تو جب تمہیں موت آئے گی تو تمہیں کوئی نقصان نہ ہوگا۔
حضرت سیدنا عبد اﷲ بن حسن (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں میرے پاس ایک رُومی لونڈی تھی جو مجھے پسند تھی ایک رات جب