| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
خال خال ہی نظر آتے ہیں اوراگر ایسے لوگوں کی زیارت نصیب ہو جوان بزرگوں کی اقتدا کرتے ہیں تو مدینہ مدینہ ۔کیوں کہ سننا دیکھنے کی طرح نہیں ہوتا اور اگر ان کی زیارت کرنا آپ کیلئے ممکن نہ ہو توکم از کم ان بزرگان دین ثکے حالات سننے سے غفلت نہ برتیں ۔اگر اونٹ نہ ملے تو بکری پر ہی گزارہ کرلینا چاہئے۔ اب آپ کے اختیار میں ہے کہ ان لوگوں کی اقتدا کریں جو عقل مند اور دانا ہیں اور دین کی بصیرت رکھتے ہیں یا اپنے زمانے کے جاہلوں غافلوں کے پیچھے چلیں جو کہ ہر گز پسندیدہ نہیں اگر آپ کا دل آپ یہ کہے کہ وہ بزرگان دین تو بزرگ تھے ہم جیسے کمزور ویسی عبادت کسطرح کر سکتے ہیں تو میں آپ کو مشورہ دوں گا کہ اگر آپ ان مردان خدا کی طرح نہیں بن سکتے تو کم از کم اِن اسلامی بہنوں کی طرف دیکھیں جنہوں نے عبادت میں مجاہدے کئے اور اپنے نفس سے کہئے کہ کیا تجھے اس بات سے غیرت نہیں آئے گی کہ اسلامی بہنیں عورت ہونے کے باوجو د عبادات میں تجھ سے بڑھ جائیں تو نہایت ذلت کی بات ہے کہ مرد ہو کر دینی اور دنیوی معلامات میں عورت سے کم رہے۔
فصل ۔۔۔۔۔۔ ۵
عبادت گزار اسلامی بہنیں:اب ہم عبادت میں کوشش کرنے والی کچھ اسلامی بہنوں کے حالات ذکر کرتے ہیں۔ منقول ہے کہ حضرت سیدتنا حبیبہ عدویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاجب عشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ہوتیں تو اپنی چھت پر کھڑی ہوجاتیں اور اپنا کرتہ اور دوپٹہ خوب اچھی طرح باندھ لیتیں پھر بارگاہ خداوندی میں عرض کرتیں۔ '' یا اﷲ ! ستارے چلے گئے' آنکھیں سوگئیں' بادشاہوں کے دروازے بند ہوگئے اور میں تیرے سامنے کھڑی ہوں۔'' پھر آپ نماز کی طرف متوجہ ہوجاتیں جب فجر طلوع ہوتی تو آپ عرض کرتیں۔ یا اﷲ(عزوجل) ! رات چلی گئی دن روشن ہوگیا کاش مجھے معلوم ہوتا کہ تو نے میری رات (کی عبادت) کو قبول کیا تاکہ میں اپنے آپ کو مبارکباد دوں یا تو نے رد کردیا تو میں افسوس کروں۔ مجھے تیری عزت کی قسم جب تک تو مجھے زندہ رکھے گا تیری بارگاہ میں میرا یہی طریقہ ہوگا اور تیری عزت کی قسم اگر تو مجھے اپنے دروازے سے جھڑک بھی دے تو میں نہیں ہٹوں گی کیونکہ میں تیرے جُود وکرم سے اچھی طرح واقف ہوں۔ ایک عمر رسیدہ اسلامی بہن کے بارے میں منقول ہے کہ وہ رات بھر عبادت کرتی تھیں حالانکہ وہ نابینا تھیں اور جب