Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
124 - 325
دعا مانگتا ہے۔ اے میرے سہارے میری مدد فرما تو میری مصیبتوں سے آگاہ ہے اور بندوں کی لغزشوں کو بہت معاف کرنے والا ہے''۔

اور یہ بھی کہا گیا ہے۔
اَلَذُّ مِنَ التَّلَذُّذِ بِالْغَوَانِیْ 		اِذَا اَقْبَلْنَ فِیْ حَالٍ حِسَانٍ

مُنِیْبٌ فَرَّ مِنْ اَھْلٍ وَمَالٍ 	یَسِیْحُ الِیٰ مَکَانٍ مِنْ مَکَانٍ 

لَیَحْمِلَ ذِکْرَہ' وَ لَعِیْشُ فَرْوًا 	 وَیَظْھُرُ فِی الْعِبَادَۃِ بِالْاَمَانِی

وَ تُلَذِّذُہٗ التِّلاَوَۃُ اَیْنَ وَلِیَ		وَذِکْرٌ بالْفُؤادِ وَ بِاللِّسَانِ 

وَعِنْدَ اَلْمَوْتِ یَاتِیْہِ بَشِیْرٌ 	یُبْشِّرُ بِالنَّجَاتِ مِنَ الْھَوَانِ 

فَیُدْرِکْ مَا اَراَدَ وَمَا تَمَنیَّ 	مِنَ الّراحَاتِ فِیْ غُرَفِ الْجِنَانِ
ترجمہ : '' گانے بجانے والی عورتیں جب اچھی حالت میں آئیں تو خوف خدا د رکھنے والے کے لئے ان کی لذت سے بڑھ کر یہ ہے کہ وہ اہل ومال سے بھاگ کر اﷲ تعالیٰ کی طلب میں رہتا ہے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتا ہے تاکہ اس کے ذکر میں مشغول رہے اور کل (قیامت) کی زندگی کو یاد کرے اور اس کی خواہشات عبادت میں ظاہر ہوں وہ جہاں بھی رہے اسے تلاوت کا ذوق ہوتا ہے نیز دل اور زبان سے ذکر اللہ (عزوجل)کرتا رہتا ہے چنانچہ موت کے وقت اس کے پاس ایک خوشخبری دینے والا آتا ہے جواسے ذلت سے نجات کی خوشخبری سناتاہے پس وہ اپنی مراد اور تمنا کو پالیتا ہے اور یہ تمنا جنت کے بالاخانوں میں آرام و سکون ہے''۔

منقول ہے کہ حضرت سیدنا کرز بن وَبْرَہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ہر دن تین بار قرآن پاک ختم کیا کرتے تھے اور عبادات میں انتہائی درجے کا مجاہدہ فرماتے ان سے کہا گیا کہ آپ نے اپنے نفس کو مشقت میں ڈال دیا ۔فرمایا دنیا کی عمر کتنی ہے ؟ عرض کیا گیا سات ہزار سال فرمایا قیامت کا دن کتنا بڑا ہوگا؟ کہا گیا پچاس ہزار سال کا ہوگا فرمایا تو تم میں سے کوئی شخص کیسے اس بات سے عاجز ہے کہ صرف سات دن عمل کرکے اس دن کے عذاب سے بے خوف ہوجائے مطلب یہ کہ اگر تم دنیا میں زندہ رہو اور ہزار سال عبادت کرو اور اس طرح ایک دن کے عذاب سے چھوٹ جاؤ جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے تو تمہارے لئے نفع زیادہ ہوگا اور اس صورت میں بندے کو عبادت سے رغبت ہونی چاہئے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! نفس کی نگہداشت اور حفاظت کے سلسلے میں اسلاف کا طریقہ یہی تھا لہٰذا جب آپ کا نفس سرکشی کرے اور عبادت کی پابندی سے رُک جائے تو بزرگان دین ث کے حالات کا مطالعہ کریں کیوں کہ اب ان جیسے لوگ
Flag Counter