| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنی ناراضگی سے مجھے بچائے گا اور اپنی رحمت سے مجھ پر فضل فرمائے گا۔ یہ بزرگ فرماتے ہیں میں نے کہا یہ شخص اﷲ تعالیٰ کا ولی ہے مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے اسے باتوں میں مشغول رکھا تو کہیں اسی مقام پر مجھ پر عذاب نہ آجائے پس میں اسے چھوڑ کر واپس چلا گیا''۔ ایک بزرگ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں میں ایک سفر میں جارہا تھا کہ آرام کے لئے میں ایک درخت کی طرف گیا میں نے ایک بزرگ کو دیکھا جو میری طرف آرہے تھے انہوں نے مجھ سے کہا اے فلاں ! کھڑے ہوجاؤ موت ابھی نہیں مری پھر وہ سامنے کی طرف چل دیئے میں ان کے پیچھے چلا تو سنا وہ کہہ رہے تھے۔
کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ ۟
ترجمہ کنز الایمان: ''ہر جان کو موت چکھنی ہے '' (پارہ'۴ سوره آل عمران' آیت ۱۸۵) یا اﷲ ! مجھے موت میں برکت عطا فرما میں نے کہا اور موت کے بعد ؟ فرمایا جس کو موت کا یقین ہو وہ خوف کی وجہ سے دنیاوی لوگوں سے دامن اٹھا کر چلتا ہے اور اس کے لئے دنیا میں کوئی ٹھکانہ نہیں ہوگا پھر وہ کہنے لگے۔ اے وہ ذات ! جس کے لئے چہرے جھکتے ہیں اپنے دیدار کے ذریعے میرے چہرے کو روشن کر دے اپنی محبت سے میرے دل کو بھر دے اور کل قیامت کے دن اپنے سامنے جھڑک کی ذلت سے مجھے بچالے اب مجھے تجھ سے شرم آتی ہے اور تیری نافرمانی سے میں باز آیا۔ پھر فرمایا تیرا حکم نہ ہوتا تو موت کے پاس بھی میری گنجائش نہ ہوتی اور اگر تو معاف نہ کرتا تو میرے بچاؤ کی کوئی صورت نہ تھی پھر وہ بزرگ مجھے چھوڑ کر چلے گئے' مجاہدے کے سلسلے میں یہ اشعار ہیں۔
نِحَیْلَ الْجِسْمِ مُکْتَئِبَ الْفُئَوادِ تَرَاہُ بِقُمَّۃٍ اَوْبطْنَ وَادِیٍ یَنُوْحُ عَلَی مَعَاضٍ فَاضِحَاتٍ یُکَدِّرُ ثِقْلُھَا صَفْوَا لرُّقَاد فَاِنْ ھَاجَتْ مَخاوِقُہ' وَزَادَتْ فَدَعْوَتُہ' اَغِثْنِیْ یَاعِمَادِیْ فَاَنْتَ بِمَا اُلاَقِیْہِ عَلِیْمٌ کَثِیْرُ الصَّفْحِ عَنْ زِلَلِ الْعِبَادِ
ترجمہ : ''دبلا پتلا جسم اور غمگین دل ،توُ اسے پہاڑوں کی چوٹیوں یا وادیوں کے دامن میں دیکھے گاکہ رُسوا کرنے والے جرموں پر روتا ہے ۔ان کا بوجھ اس کی راحت بھری نیند کو خراب کردیتا ہے۔ اگر خوف میں جوش پیدا ہو تو وہ پریشان ہو کر