کیا جب ایک گھڑی اسے افاقہ ہوا تو میں نے سنا وہ کہہ رہا تھا میں جھوٹوں کے مقام سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اہل باطل کے اعمال سے تیری پناہ کا طالب ہوں میں غافل لوگوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ پھر کہا ڈر نے والوں کے دل تیرے لئے جھک گئے' کوتاہی کرنے والوں کی امید تیری طرف مائل ہوتی ہے تیری عظمت کے سامنے عارفین کے دل جھک جاتے ہیں ۔
پھر اپنے دونوں ہاتھ جھاڑے اور کہا مجھے اس دنیا سے کیا سرو کار ؟اور دنیا کا مجھ سے کیا تعلق ؟ اے دنیا !اپنے ہم جنس لوگوں کے پاس جاجو تجھے بلاتے اور پسند کرتے ہیں اپنی آسائشیں ان کے پاس لے جا اور ان کو ہی دھوکہ دے ۔پھر کہا گزشتہ زمانے کے لوگ کدھر گئے وہ مٹی میں بوسیدہ ہوگئے اور لوگ چند روز میں فنا ہوجاتے ہیں۔
وہ بزرگ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں میں نے اسے آواز دی کہ اے بندئہ خدا میں دن بھر سے تیرے پیچھے کھڑا ہوں اور تیری فراغت کا منتظر ہوں اس نے کہا'' وہ شخص کیسے فارغ ہوسکتا ہے جو زمانے سے آگے جانا چاہتا ہواور زمانہ اس سے آگے بڑھتا ہو ،جو ڈرتا ہو کہ کہیں موت اس کے نفس پر سبقت نہ کر جائے اور وہ شخص کیسے فارغ ہوگا جس کا وقت گزر گیا اور گناہ باقی رہ گئے پھر فرمایا تو میں ان گناہوں کی وجہ سے ہر شدت کے اترنے کی توقع کرتا ہوں پھر کہا مجھ سے ایک گھڑی کے لئے الگ ہوجاؤ اس کے بعد انہوں نے قرآن پاک کی یہ آیت کریمہ پڑھی۔