Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
122 - 325
کیا جب ایک گھڑی اسے افاقہ ہوا تو میں نے سنا وہ کہہ رہا تھا میں جھوٹوں کے مقام سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور اہل باطل کے اعمال سے تیری پناہ کا طالب ہوں میں غافل لوگوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ پھر کہا ڈر نے والوں کے دل تیرے لئے جھک گئے' کوتاہی کرنے والوں کی امید تیری طرف مائل ہوتی ہے تیری عظمت کے سامنے عارفین کے دل جھک جاتے ہیں ۔

پھر اپنے دونوں ہاتھ جھاڑے اور کہا مجھے اس دنیا سے کیا سرو کار ؟اور دنیا کا مجھ سے کیا تعلق ؟ اے دنیا !اپنے ہم جنس لوگوں کے پاس جاجو تجھے بلاتے اور پسند کرتے ہیں اپنی آسائشیں ان کے پاس لے جا اور ان کو ہی دھوکہ دے ۔پھر کہا گزشتہ زمانے کے لوگ کدھر گئے وہ مٹی میں بوسیدہ ہوگئے اور لوگ چند روز میں فنا ہوجاتے ہیں۔

وہ بزرگ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں میں نے اسے آواز دی کہ اے بندئہ خدا میں دن بھر سے تیرے پیچھے کھڑا ہوں اور تیری فراغت کا منتظر ہوں اس نے کہا'' وہ شخص کیسے فارغ ہوسکتا ہے جو زمانے سے آگے جانا چاہتا ہواور زمانہ اس سے آگے بڑھتا ہو ،جو ڈرتا ہو کہ کہیں موت اس کے نفس پر سبقت نہ کر جائے اور وہ شخص کیسے فارغ ہوگا جس کا وقت گزر گیا اور گناہ باقی رہ گئے پھر فرمایا تو میں ان گناہوں کی وجہ سے ہر شدت کے اترنے کی توقع کرتا ہوں پھر کہا مجھ سے ایک گھڑی کے لئے الگ ہوجاؤ اس کے بعد انہوں نے قرآن پاک کی یہ آیت کریمہ پڑھی۔
 وَ بَدَا لَہُمۡ مِّنَ اللہِ مَا لَمْ یَکُوۡنُوۡا یَحْتَسِبُوۡنَ ﴿۴۷﴾
ترجمہ کنز الایمان: ''اور انہیں اللہ کی طرف سے وہ بات ظاہرہوئی جو ان کے خیال میں نہ تھی''(پارہ ۲۴'سوره زمر' آیت۴۷)

پھر دوسری چیخ ماری جو پہلی سے بھی زیادہ سخت تھی اور بیہوش ہو کر گر پڑے میں نے سوچا انکی رُوح پرواز کرگئی ہے جب قریب ہوا تو دیکھا کہ وہ تڑپ رہے ہیں پھر افاقہ ہوا تو کہنے لگے میں کون ہوں؟ میرا دل کیا ہے ؟ اے رحمٰن (عزوجل) اپنے فضل سے میری برائی معاف کردے،مجھے اپنی رحمت میں ،چھپالے اپنے کرم سے میرے گناہ معاف فرمادے جب میں تیرے سامنے کھڑا ہوں گا۔

میں نے کہا اس ذات کی قسم جس کے فضل کی تم امید رکھتے ہو اور جس پر تمھارا اعتماد ہے مجھ سے کچھ گفتگو کرو انہوں نے کہا اس سے کلام کرو جس کے کلام سے تمہیں کوئی نفع بھی ہو اور اس سے گفتگو کا ارادہ ترک کردو جسے اس کے گناہوں نے تنگ کررکھا ہو میں اس جگہ ایک عرصہ سے جب سے اﷲ تعالیٰ نے چاہا ابلیس سے لڑتا ہوں اور وہ مجھ سے لڑرہا ہے میں نے تمہارے سوا کوئی نہیں پایا جو مجھے اس حالت سے نکالے تم مجھ سے الگ رہو مجھے تم سے دھوکہ ہوا اور تم نے میری زبان کو بیکار کردیا اور میرے دل کا تھوڑا سا حصہ تمہارے ساتھ گفتگو کی طرف مائل ہوگیا میں تمہارے شر سے اﷲ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں'
Flag Counter