حضرت سیدنا جعفر بن محمد رحمہما اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے ایک بصری سے یہ بات بیان کی تو اس نے کہا آپ اس کی چیخ کی طرف دھیان نہ دیں بلکہ اس بات کو دیکھیں جو دو چیخوں کے درمیان ہے اور اس کی وجہ سے وہ چیختے ہیں۔
حضرت سیدنا قاسم بن راشد رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا زمعہ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ہمارے پاس مقام محصب میں ٹھہرے ہوئے تھے ان کی بیوی اور بیٹیاں بھی ساتھ تھیں وہ رات کو اٹھتے اور دیر تک نماز پڑھتے جب سحری کا وقت ہوتا تو بلند آواز سے پکارتے اسے سونے والے سوارو! کیا تم رات بھر سوئے رہوگے اور اٹھ کر چلو گے نہیں تو وہ لوگ جلدی جلدی اٹھ بیٹھتے تو کسی کے رونے کی آواز آتی کوئی دعا مانگ رہا ہوتا کوئی قرآن پاک پڑھ رہا ہوتا کوئی وضو کررہا ہوتا جب صبح ہوتی تو وہ بلند آواز سے پکارتے صبح کے وقت لوگ چلنے کو اچھا سمجھتے ہیں۔
کسی دانا کا قول ہے کہ اﷲ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جن پر اﷲ تعالیٰ نے انعام فرمایا تو انہوں نے اسے پہچان لیا ۔اس نے ان کے سینوں کو کھول دیا تو انہوں نے اس کی اطاعت کی اس پر توکّل کیااور خلق و امر کو اس کے حوالے کردیا یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا پر راضی ہوگئے۔ ان کے دل یقین کی کانیں ،حکمت کے گھر' عظمت کے صندوق اور قدرت کے خزانے بن گئے وہ لوگوں کے درمیان آتے جاتے ہیں لیکن ان کے دل ملکوت میں پھرتے ہیں ا ور غیب کے پردوں میں پناہ لیتے ہیں پھر وہ لوٹتے ہیں اور ان کے ساتھ لطائف کے کچھ فوائد ہوتے ہیں جن کا وصف کوئی بھی بیان نہیں کرسکتا وہ لوگ باطنی خوبی میں ریشم کی طرح خوبصورت ہیں اور ظاہر میں گویا رومال ہیں یعنی ان کی تواضع کی وجہ سے جو چاہے ان سے خدمت لے لے ۔یہ وہ طریقہ جس تک پہنچنا تکلف کے ذریعے ممکن نہیں یہ تو محض فضل خداوندی ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ایک نیک اور صالح بزرگ سے منقول ہے فرماتے ہیں میں بیت المقدس کے کسی پہاڑ میں چل رہا تھا کہ وہاں ایک وادی میں اتر وہاں ایک بڑی گونج سنی میں آواز کے پیچھے چلا تو دیکھا کہ ایک باغ ہے جو درختوں سے ڈھانپا ہوا ہے اور وہاں ایک شخص کھڑا باربار یہ آیت کریمہ پڑھ رہا ہے۔