ترجمہ کنز الایمان: ''تو اللہ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں لو کے عذاب سے بچا لیا'' (پارہ۲۷' سوره طور' آیت ۲۷) آپ روتی ہوتی دعا مانگ رہی تھیں اور یہ آیت بار بار پڑھتی تھیں میں کھڑا رہا حتی کہ تھک گیا اور آپ اسی حالت میں تھیں میں نے یہ حالت دیکھی تو بازار چلا گیا میں نے سوچا اپنے کام سے فارغ ہو کر واپس آؤں گا جب میں اپنے کام سے فارغ ہو کر واپس لوٹا تو ابھی بھی آپ یہ آیت باربار پڑھتیں' روتیں اور دعا مانگ رہی تھیں۔ حضرت سیدنا محمد بن اسحاق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں جب حضرت سیدنا عبد الرحمن بن اسود (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) حج کرکے واپس ہمارے پاس تشریف لائے تو ان کے ایک پاؤں میں کچھ تکلیف تھی تو وہ ایک پاؤں پر کھڑے ہو کر نماز پڑھتے حتی کہ وہ عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھتے حضرت سیدنا علی المرتضیٰ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں صالحین کی علامت یہ ہے کہ شب بیداری کی وجہ سے ان کے رنگ زرد پڑجاتے ہیں رونے کی وجہ سے ان آنکھوں کی بنیائی کمزور ہوجاتی ہے اور روزے کی وجہ سے ان کے ہونٹ خشک ہو جاتے ہیں ان پر خشوع وخضوع کرنے والوں کی طرح غبار ہوتی ہے۔ حضرت سیدنا حسن بصری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے تہجد پڑھنے والوں کے چہرے حسین ہوتے ہیں انہوں نے فرمایا ''اس لئے کہ وہ اپنے رب کے لئے تنہائی اختیار کرتے ہیں تو اﷲ تعالیٰ ان کو اپنے نور کا لباس پہنا دیتا ہے۔'' ایک بزرگ کا قول ہے کہ میں موت سے صرف اس لئے ڈرتا ہوں کہ میرے اور رات کی عبادت کے درمیان حائل ہوجائے گی۔ حضرت سیدنا عامر بن عبد القیس (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) بارگاہ خداوندی میں یوں دعا کرتے تھے یا اﷲ ! تو نے مجھے پیدا کیا تو مجھ سے مشورہ نہیں لیا اور تو مجھے موت دے گا تو اس کی خبر بھی نہیں دے گا تو نے میرے ساتھ دشمن پیدا کیا اور اسے خون کی طرح جاری کیا تو نے اسے طاقت دی کہ وہ مجھے دیکھتا ہے لیکن میں اسے نہیں دیکھ سکتا پھر تو نے مجھے بعض کاموں سے رکنے کا حکم دیا تو یا اﷲ ! جب تک توُ توفیق نہ دے ،میں کیسے رک سکتا ہوں۔ یا اﷲ ! دنیا میں غم اور پریشانی ہے اور آخرت میں عذاب و سزا ہے راحت اور خوشی کہاں ہے ؟ حضرت سیدنا جعفر بن محمد رحمہما اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں حضرت سیدنا عتبہ غلام رات کو تین چیخوں میں گزار دیتے تھے جب عشاء کی نماز سے فارغ ہوتے تو اپنا سردونوں گھٹنوں کے درمیان رکھ کر چیخ مارتے اور اپنا سر گھٹنوں کے درمیان رکھ کر غور وفکر کرتے جب رات کا دوسرا تہائی گزر جاتا تو پھر ایک چیخ مارتے اور گھٹنوں میں سردے کر فکر کرتے پھر جب سحری کا وقت ہوتا تو ایک چیخ مارتے۔