Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
119 - 325
کسی بزرگ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے فرمایا کہ میں نے چار مہینے حضرت سیدنا عامر بن عبد القیس (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی صحبت اختیار کی تو میں نے ان کو رات یا دن میں سوتا ہوا نہیں دیکھا۔

سیدنا حضرت علی المرتضیٰ (کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم) کے ساتھیوں میں سے ایک شخص سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں میں نے فجر کی نماز حضرت سیدنا علی المرتضیٰ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے پیچھے پڑھی جب انہوں نے سلام پھر اتو دائیں طرف پھر گئے اور آپ پر کچھ غم کا اثر تھا آپ طلوع آفتاب تک وہاں ٹھہرے رہے پھر اپنا ہاتھ پلٹ کر فرمایا ''اﷲ کی قسم ! میں نے رسول اکرم اکے صحابہ کرام (رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین) کو دیکھا ہے اور آج ان کی مثل کوئی نہیں ہے وہ یوں صبح کرتے کہ ان کے بال بکھرے ہوئے ہوتے چہروں پر گردوغبار ہوتی اور رنگ پیلا پڑچکا ہوتا وہ تمام رات اﷲ تعالیٰ کا ذکر کرتے تو اس طرح ہلتے جس طرح آندھی والے دن درخت ہلتا ہے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے حتی کہ ان کے کپڑے تر ہوجاتے اور یہ لوگ غفلت میں رات گزارتے ہیں ان کی مراد وہ لوگ تھے جو ان کے اردگرد تھے۔''

حضرت سیدنا ابو مسلم خولانی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے اپنے گھر کی مسجد میں ایک ڈنڈا لٹکا رکھا تھا اس کے ذریعے آپ اپنے نفس کو ڈراتے تھے اور آپ اپنے نفس سے فرماتے اٹھو اﷲ کی قسم ! ورنہ میں تمہیں اس قدر گھسیٹوں گا کہ تم تھک جاؤ گے ۔ اور جب ان پرسستی طاری ہوتی تو ڈنڈالے کر اپنی پنڈلیوں پر مارتے اپنے نفس سے اور فرماتے تو کسی جانور کی نسبت مار کھانے کے زیادہ لائق ہے اور فرماتے تھے کیا صحابہ کرام (رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین) نے یہ خیال کیا ہوگا کہ انہوں نے ہی دین کو اختیار کیا اور ان کے ساتھ کوئی دوسرا شریک نہیں قسم بخدا ! ہم بھی اس میں اس طرح شرکت کریں گے ان کو معلوم ہوجائے کہ ہمارے بعد بھی کچھ لوگ اﷲ عزوجل پر ایمان لائے ہیں ۔

منقول ہے کہ حضرت سیدنا صفوان بن سلیم (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے زیادہ دیر قیام کی وجہ سے ان کی پنڈلیاں جواب دے گئی تھیں اور وہ عبادت میں اس قد رکوشش تک پہنچ گئے تھے کہ اگر ان سے کہا جاتا کہ قیامت کل ہے توان کی عبادت میں کوئی اضافہ نہ ہوتا چنانچہ جب سردی کا موسم آتا تو وہ چھت پر لیٹ جاتے تاکہ سردی لگے اور جب گرمی کا موسم ہوتا تو گھر کے اندر لیٹ جاتے تاکہ گرمی محسوس ہو اور نیند نہ آئے ۔جب ان کا وصال ہوا تو وہ سجدے کی حالت میں تھے وہ فرمایا کرتے تھے۔ یا اﷲ ! مجھے تیری ملاقات پسند ہے تو میری ملاقات کو پسند فرما۔

حضرت سیدنا قاسم بن محمد رضی اﷲ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں میں ایک دن صبح اٹھا اور میری عادت تھی کہ صبح کے وقت میں پہلے حضرت سیدتنا عائشہ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کو سلام کیا کرتا تھا تو ایک دن میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ چاشت کی نماز پڑھ رہی تھیں۔