اﷲ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے آپ رات بھر لیٹے رہے پھر وضو نہیں فرمایا۔
انہوں نے فرمایا میں رات بھر کبھی جنت کے باغوں میں اور کبھی جہنم کی وادیوں میں پھرتا رہا تو کیا ایسی صورت میں نیند آتی ہے ؟ (یعنی ساری رات آخرت میں غور کرتے گزر گئی نیند نہ آئی)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا ثابت بنانی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں میں نے کئی آدمیوں کو دیکھا جب ان میں سے ایک نماز پڑھتا تو اس قدر تھک جاتا کہ بستر پر گھٹنوں کے بل چل کر آتا۔
کہا گیا ہے کہ حضرت سیدنا ابو بکر بن عیاش (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے چالیس سال اس طرح گزارے کہ انہوں نے بستر پر پہلو نہ رکھا اور ان کی ایک آنکھ میں پانی اتر آیا تو انہوں نے یہ خیال کر کے کہ علاج معالجے کے جھنجٹ سے میرا وقت ضائع ہوگا ،بیس سال اسی طرح گزار دیئے اور ان کے گھر والوں کو علم نہ ہوسکا۔
اسی طرح منقول ہے کہ حضرت سیدنا سمنون (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) روزانہ پانچ سو رکعات پڑھتے تھے۔ اور حضرت سیدنا ابو بکر مطوعی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں میں جوانی میں روزانہ دن رات میں اکتیس ہزار یا چالیس ہزار مرتبہ سوره اخلاص پڑھا کرتا تھا۔ راوی کو تعداد میں شک ہے ۔
حضرت سیدنا منصور بن معتمر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی حالت یہ تھی کہ جب تم ان کو دیکھو تو کہو کہ شاید یہ کوئی مصیبت کا مارا ہے آنکھیں جھکی ہوئیں، آواز پست اور آنکھیں تر رہتی تھیں اگر ذرا حرکت دو تو چار چار آنسو نکلیں ان کی والدہ نے فرمایااے بیٹے! اپنے نفس سے یہ کیا معاملہ کررہے ہو کہ ساری رات روتے رہتے ہو اے بیٹے شاید تم نے کوئی قتل کیا ہے اور تم اپنے ضمیر پر اسکا بوجھ محسوس کرتے ہو۔وہ جواب دیتے اے ماں ! میں خوب جانتا ہوں جو کچھ میں نے اپنے نفس کے ساتھ کیا ہے۔
حضرت سیدنا عامر بن عبد اﷲ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے پوچھا گیا کہ آپ رات کی بیداری اور دوپہر کی پیاس پر کیسے صبر کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا اس طرح کہ میں دن کے کھانے کو رات پر اور رات کی نیند کو دن پر ٹال دیتا ہوں پھر عاجزی کرتے ہوئے فرمانے لگے کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔
آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرمایا کرتے تھے میں نے جنت کی مثل کوئی چیز نہیں دیکھی جس کا طلب گارسوتا رہے اور دوذخ جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی کہ اس سے بھاگنے والا بھی سوتا رہے اور ان کی عادت تھی کہ جب رات آجاتی تو فرماتے جہنم کی گرمی نیند کو لے گئی پھر وہ صبح تک نہ سوتے اور جب دن کا وقت آتا تو فرماتے جہنم کی گرمی نے نیند کو ختم کر دیااور اس طرح وہ شام تک نہ سوتے پھر جب رات آتی تو فرماتے جوتاخیر سے ڈرتا ہے وہ اپنے سفر کا آغاز رات میں ہی کر دیتا ہے اور صبح کے وقت لوگ رات کے چلنے کو اچھا سمجھتے ہیں۔ (یعنی منزل پر پہنچنے کے بعد لوگ تیز چلنے والے اور جلدی کرنے والے کو اچھا سمجھتے ہیں)