فرمایا مجھے یہی توڈر ہے کہ اﷲ تعالیٰ مجھ سے پوچھے یہ آٹا کہاں سے آیا ؟ تو مجھے معلوم نہ ہو کہ میں کیا جواب دوں یہ سن کر میری ماں اور ماموں دونوں رونے لگے۔ اور میں ان کے ساتھ رونے لگا ۔''
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہی حضرت سیدنا عمر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں کہ میری ماں نے جب حضرت سیدنا بشر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کو دیکھا کہ بھوک کی وجہ سے ان کا سانس لینا مشکل ہوگیا ہے تو انہوں نے کہا بھائی جان ! کاش میں تمہاری بہن نہ ہوتی اﷲ کی قسم ! تمہاری حالت دیکھ کر میرا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے میں نے سنا وہ جواب میں فرماتے میں بھی یہی کہتا ہوں کہ کاش میری ماں مجھے نہ جنتی اور اگر جنا تھا تو مجھے دودھ نہ پلاتی حضرت سیدنا عمر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں میری ماں ان کی آہ و زاری اور عبادت کی مشقّت دیکھ کر دن رات روتی رہتی تھیں۔
حضرت سیدنا ربیع (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں میں حضرت سیدنا اویس (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے پاس حاضر ہوا تو میں نے ان کو نماز فجر سے فراغت کے بعد بیٹھا ہوا پایا پھر وہ بھی بیٹھے رہے اور میں بھی ان کے ساتھ بیٹھا رہا اور میں نے دل میں کہا کہیں میری وجہ سے ان کی تسبیح میں حرج نہ ہوچنانچہ میں نے انہیں مخاطَب نہ کیا وہ اپنی جگہ سے نہ ہلے یہاں تک کہ انہوں نے ظہر کی نماز پڑھی اور عصر تک نماز پڑھتے رہے پھر عصر کی نماز پڑھنے کے بعد دوبارہ بیٹھ گئے مغرب کی نماز تک بیٹھے رہے اور پھر مغرب کی نماز ادا کی پھر وہیں بیٹھے رہے حتی کہ نماز عشاء ادا کی پھر اسی جگہ ٹھہرے رہے یہاں تک کہ فجر کی نماز پڑھی پھر بیٹھے تو نیند آنے لگی آپ نے بارگاہ خداوندی میں عرض کیا۔
یا اﷲ ! میں زیادہ سونے والی آنکھوں اور نہ سیر ہونے والے پیٹ سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ربیع صفرماتے میں نے کہا ان سے مجھے اتنی نصیحت ہی کافی ہے چنانچہ میں واپس چلا آیا۔
اسی طرح ایک شخص نے حضرت سیدنا اویس (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کو دیکھا تو پوچھا اے ابو عبد اﷲ ! کیا بات ہے میں آپ کو ایک بیمار آدمی کی طرح دیکھتا ہوں ؟ انہوں نے فرمایا اویس کو کیا ہوا کہ وہ بیمار کی طرح نہ ہو جبکہ بیماروں کو کھانا ملتا ہے اور اویس کھانا نہیں کھاتا اور بیمار آدمی سوتا ہے لیکن اویس نہیں سوتا۔
حضرت سیدنا احمد بن حرب (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں اس شخص پر تعجب ہے جو جانتا ہے کہ اس کے اوپر جنت آراستہ ہے اور اس کے نیچے جہنم کی آگ جل رہی ہے پھر وہ ان کے درمیان کیسے سوجاتا ہے۔
ایک عابد رحمہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں حضرت سیدنا ابراہیم بن ادھم (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے پاس آیا تو دیکھا کہ وہ عشاء کی نماز پڑھ چکے ہیں میں ان کے انتظار میں بیٹھ گیا انہوں نے ایک کمبل لپیٹا اور لیٹ گئے انہوں نے رات بھر پہلو نہ بدلا حتی کہ صبح ہوگئی اور موذن نے اذان دی وہ جلدی جلدی نماز کی طرف اٹھے لیکن وضونہ کیا میرے دل میں یہ بات کھٹکی اور میں نے کہا