ہوجاؤں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں فارغ ہوں۔
رات کے وقت حضرت سیدنا اویس قرنی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے تھے یہ رکوع کی رات ہے پھر وہ تمام رات رکوع میں گزارتے اور دوسری رات آتی تو فرماتے یہ سجدے کی رات ہے پھر وہ پوری رات سجدے میں گزار دیتے ۔کہا گیا کہ جب حضرت سیدنا عتبہ غلام (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) تائب ہوئے تو وہ کھانے پینے کے لئے آمادہ نہ ہوتے ان کی ماں نے ان سے کہا اگر تم اپنے نفس پر کچھ نرمی کرو تو کیا حرج ہے ؟ انہوں نے فرمایا ''میں آرام ہی تو چاہتا ہوں مجھے تھوڑی سے مشقت کرلینے دیں پھر میں طویل مدت عیش کروں گا''۔
حضرت سیدنا مسروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے حج کیا وہ نہیں سوئے۔ حضرت سیدنا سفیان ثوری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں جسطرح لوگ رات کو چلنے کی تعریف صبح کے وقت کرتے ہیں کہ رات کو سفر طے کر کے صبح صبح اپنی منزل پر پہنچ جاتا ہے اسی طرح مرنے کے و قت لوگ متقی کی تعریف کریں گے۔
حضرت سیدنا عبد اﷲ بن داؤدص فرماتے ہیں بزرگان دین میں سے جب کوئی چالیس برس کا ہوتا تو اپنا بستر لپیٹ دیتا یعنی وہ تمام رات جاگنے کی عادت بنالیتا۔
حضرت سیدنا کہمس بن حسن (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ہر دن ایک ہزار رکعات پڑھتے پھر اپنے نفس سے فرماتے اے تمام برائیوں کی پناہ گاہ اٹھ جب آپ کمزور ہوگئے تو پانچ سو رکعات پر اکتفا کرلیا پھر روتے ہوئے کہنے لگے میرا نصف عمل چلا گیا۔
حضرت سیدنا ربیع بن خثیم (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی صاحبزادی ان سے پوچھتی تھی ابا جان ! کیا بات ہے میں دیکھتی ہوں کہ لوگ سوتے ہیں اور آپ آرام نہیں فرماتے ؟ وہ جواب دیتے اے بیٹی ! تیرے باپ کو رات کے حملے کا ڈر ہے۔ (کہیں ایسا نہ ہو کہ سوتے ہوئے موت آجائے اور غفلت کی حالت میں دم نکلے)
جب حضرت سیدنا ربیع (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)کی والدہ نے ان کا رونے اور جاگنے کا حال دیکھا تو آواز دی اے بیٹے ! شاید تو نے کسی کو قتل کیا ہے انہوں نے کہا ہاں اے ماں اسی طرح ہے۔ ماں نے پوچھا وہ کون ہے ؟ تاکہ ہم اس کے گھر والوں کو تلاش کرکے ان سے معافی مانگیں اﷲ کی قسم اگر ان کی تمہاری اس حالت علم ہوجائے تو وہ تمہیں معاف کردیں گے اور تجھ پر رحم کھائیں گے انہوں نے فرمایا'' اماں جان یہ میرا نفس ہے جسے میں نے گناہ کر کر کے جہنم کا حقدار کر دیا ہے۔''
حضرت سیدنا بشر بن حارث (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے بھانجے حضرت سیدنا عمر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں'' میں نے اپنے ماموں حضرت سیدنا بشر (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے سنا وہ میری ماں سے فرمارہے تھے اے میری بہن ! میرا پیٹ اور پسلیاںآپس میں ٹکرائی ہیں تو میری ماں نے کہا بھائی ! اگر تم اجازت دو تو میں تمہارے لئے ایک مٹھی میدے کا حریرہ بنادوں اس کے پینے سے طاقت آجائے گی انہوں نے