Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
115 - 325
اسی طرح منقول ہے کہ گزشتہ امتوں میں سے ایک جماعت نے سفر کا ارادہ کیا تو وہ راستہ بھول گئے چنانچہ ایک راہب کے پاس پہنچے جو لوگوں سے الگ تھلگ گوشہ نشینی اختیار کئے ہوئے تھا۔

انہوں نے اسے آواز دی تو اس نے عبادت خانے سے ان کو جھانکا انہوں نے کہا اے راہب ! ہم راستہ بھول چکے ہیں ہمیں راستہ بتائیں اس نے آسمان کی طرف اشارہ کیا تو لوگ اس کا ارادہ سمجھ گئے ۔انہوں نے کہا اے راہب ! ہم آپ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہیں کیا آپ جواب دیں گے ؟ اس نے کہا پوچھو لیکن زیادہ سوال نہ کرنا کیوں کہ نہ دن واپس آتا ہے اور نہ زندگی لوٹ کر آئے گی اور موت جلدی کررہی ہے لوگوں کو اس کی بات پسند آئی انہوں نے پوچھا اے راہب ! کل قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ کے ہاں لوگوں کا حشر کس چیز پر ہوگا ؟ اس نے کہا ان کی نیتوں پر انہوں نے کہا ہمیں کوئی نصیحت کریں اس نے کہا اپنے سفر کے مطابق زادراہ حاصل کرو کیوں کہ بہترین توشہ وہ ہے جو مقصود تک پہنچائے پھر ان کو راستہ بتایا اور اپنا سر عبادت خانے کے اندر کرلیا۔

حضرت سیدنا عبد الواحد بن زید (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں میں چین کے عبادت گزاروں میں سے ایک عبادت گزار کے عبادت خانے کے قریب سے گزار تو میں نے آوازدی اے زاہد ! اس نے مجھے جواب نہ دیا میں نے دوبارہ آواز دی تو بھی جواب نہ دیا تیسری مرتبہ آواز دی تو وہ میری طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا اے فلاں ! میں زاہد نہیں ہوں زاہد تو وہ ہے جو اﷲ تعالیٰ کی ہیت سے ڈرے اس کی کبریائی کی تعظیم کرے اس کی طرف سے پہنچنے والی آزمائش پر صبر کرے، اس کے فیصلے پر شکر کرے ،اس کی نعمتوں پر اس کی تعریف کرے ،اس کی عظمت کے سامنے تواضع کرے،اس کی عزت کے سامنے ذلت اختیار کرے ،اس کی قدرت کے سامنے جھک جائے ۔اس کے خوف کے سامنے دم نہ مارے اور اس کے حساب و عذاب کے بارے میں سوچے، دن کو روزہ رکھے اور رات کو عبادت کے ساتھ قیام کرے ،دوزخ کی یاد اور اﷲ تعالیٰ سے سوال اسے بیدار رکھے ایسا شخص حقیقی زاہد ہوتا ہے۔میں تو ایک کاٹنے والا کتا ہوں میں نے اپنے آپ کو اس عبادت خانے میں بند کردیا ہے تاکہ لوگوں کو نہ کاٹوں۔

میں نے کہا اے زاہد ! معرفت خداوندی کے بعد لوگوں کو اس سے کس چیز نے دور کردیا ہے ؟ اس نے کہا اے میرے بھائی ! لوگوں کو اﷲ تعالیٰ سے دنیا کی محبت اور اس کی زنیت نے الگ کررکھا ہے کیوں کہ یہ گناہوں کی جگہ ہے سمجھ دار وہ ہے جو اسے دل سے نکال پھینکے اپنے رب کے ہاں اپنے گناہ سے توبہ کرے اور ایسی باتوں کی طرف متوجہ ہو جو اسے اﷲ تعالیٰ کے قریب کردیں۔

مشہور بزرگ حضرت سیدنا داؤد طائی(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے کہا گیا کہ آپ کنگھی کرلیں انہوں نے فرمایا اگر میں کنگھی میں مشغول