Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
114 - 325
بڑھ کر کسی کو عبادت گزار نہیں دیکھا ۔انہیں اٹھانوے سال کے عرصہ میں مرض الموت کے علاوہ بستر پر نہیں دیکھا گیا۔

حضرت سیدنا حارث بن سعد (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ایک جماعت کسی زاہد کے پاس سے گزری تو دیکھا کہ وہ عبادت میں خوب کوشش کررہا ہے تواس سلسلے میں پوچھااس نے کہا جو کچھ مصائب و احوال مخلوق پر آنے والے ہیں اور وہ ان سے غافل ہیں ان کے مقابلے میں عبادت کی یہ تکلیف کچھ بھی نہیں لیکن لوگ اپنی نفسانی لذتوں کی طرف مائل ہو گئے ہیں اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے جو بہت بڑا حصہ ملے گا اسے بھول گئے ہیں۔یہ بات سن کر سب لوگ روپڑے۔

اسی طرح حضرت سیدنا ابو محمد مغازلی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے منقول ہے فرماتے ہیں حضرت سیدنا ابو محمد جریری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) مکہ مکرمہ میں ایک سال رہے اس دوران نہ وہ سوئے اور نہ کسی سے کلام کیا بلکہ انہوں نے کسی ستون یا دیوار کے ساتھ ٹیک بھی نہیں لگائی اور اپنے پاؤں بھی نہیں پھیلائے ۔ ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابوبکر کتانی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے انہیں سلام پیش کرنے کے بعد فرمایا'' اے ابو محمد آپ اس اعتکاف پر کس طرح قادر ہوئے ؟ ''انہوں نے فرمایا ''وہ علم جس نے میرے باطن میں سچائی پیدا کی اس نے میرے ظاہر پھر بھی مدد کی ہے ''یہ سن کر حضرت سیدنا کتانی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سوچتے سوچتے آگے چلے گئے۔

ایک بزرگ رحمہ اﷲ تعالیٰ سے منقول ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت سیدنا فتح موصَلی(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے پاس گیا تو دیکھا کہ وہ ہاتھوں کو پھیلائے ہوئے رو رہے ہیں حتی کہ میں نے دیکھا ان کے آنسو ان کی انگلیوں کے درمیان سے نکل رہے ہیں جب میں ان کے قریب گیا تو دیکھا کہ ان آنسوؤں میں زردی ہے میں نے پوچھا اے فتح ! آپ خون کے آنسو کیوں روتے ہیں اﷲ کی قسم آپ بتائیں۔ انہوں نے فرمایا اگر تم نے مجھے اﷲ تعالیٰ کی قسم نہ دی ہوتی تو میں تمہیں نہ بتاتا ہاں میں خون کے آنسو روتا ہوں میں نے پوچھا آپ اس طرح کیوں روتے ہیں فرمایا روتا اس لئے ہوں کہ میں اﷲ تعالیٰ کے فرائض میں کوتاہی کررہا ہوں اور خون کے آنسو اس لئے روتا ہوں کہ جس بات پر آنسونکل رہے ہیں کہیں وہ صحیح نہ ہوجائے۔

فرماتے ہیں کہ انکے وصال کے بعد میں نے انہیں خواب میں دیکھا تو پوچھا کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ فرمایا اس نے مجھے معاف فرمادیا میں نے پوچھا آپ کے آنسوؤں سے متعلق کیا ہوا؟ فرمایا اﷲ تعالیٰ نے مجھے اپنا قرب عطا کیا اور فرمایا اے فتح ! آنسو بہانے کا کیا مقصد تھا؟ میں نے عرض کیا اس لئے کہ مجھ سے واجب کی ادائیگی میں کوتاہی ہوئی۔ فرمایا اور خون کس مقصد کے تحت تھا ؟ میں نے عرض کیا اس ڈرسے کہ کہیں آنسو غیر مقبول نہ ہوں اﷲ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا۔ اے فتح ! ان سب باتوں سے تیری کیا مراد تھی مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے چالیس سال سے تیرے دونوں محافظ فرشتوں نے جو نامہ اعمال بھیجا ہے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے۔