بھی پسند نہیں کرتے تھے۔
حضرت سیدنا محمد بن عبد العزیز (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ''ہم صبح سے عصر تک حضرت سیدنا احمد بن رزین (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی خدمت میں بیٹھے رہے تو انہوں نے دائیں بائیں نہیں دیکھا ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے فرمایا ''اﷲ تعالیٰ نے آنکھیں اس لئے پیدا کی ہیں کہ ان سے بندہ اﷲ تعالیٰ کی عظمت کو دیکھے تو جو شخص عبرت کے حصول کے بغیر دیکھتا ہے اس کے ذمہ ایک گناہ لکھ دیا جاتا ہے۔''
حضرت سیدنا مسرو ق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)کی اہلیہ محترمہ فرماتی ہیں کہ حضرت سیدنا مسروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)کو جب بھی دیکھا جاتا تو لمبی نماز کی وجہ سے ان کی پنڈلیاں سوجی ہوئی ہوتی تھیں وہ فرماتی ہیں اﷲ تعالیٰ کی قسم میں ان کے پیچھے بیٹھتی تو ان کی یہ حالت دیکھ کر روپڑتی۔
حضرت سیدنا ابودر داد (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں'' اگر تین باتیں نہ ہوتیں تو میں ایک دن بھی زندہ رہنا پسند نہ کرتا ایک دوپہر کے وقت پیاسا رہنا دوسرا رات کے درمیان اﷲ تعالیٰ کے لئے سجدہ کرنا اور تیسری بات یہ کہ ایسے لوگوں کے پاس بیٹھنا جو اچھی باتوں کو اس طرح چھانتے ہیں جس طرح اچھی کھجوریں چھانٹی جاتی ہیں۔''
حضرت سیدنا اسود بن یزید (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) عبادت میں خوب کوشش کرتے وہ گرمی میں روزہ رکھتے حتی کہ ان کا جسم سبز اور زرد ہوجاتا حضرت سیدنا علقمہ بن قیس (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ان سے فرماتے کہ آپ اپنے نفس کو کیوں تکلیف مبتلا کرتے ہیں؟ وہ فرماتے آخرت میں اسی کی عزت و احترام چاہتا ہوں آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کا دستور تھا کہ مسلسل روزے رکھتے حتی کہ جسم زرد ہوجاتا اور نماز پڑھتے حتی کہ گر پڑتے حضرت سیدنا انس بن مالک اور حضرت سیدنا حسن رضی اﷲ عنہما ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا ''اﷲ تعالیٰ نے آپ کو ان کاموں کا حکم نہیں دیا ''فرمایا ''میں ایک مملوک غلام ہوں عاجزی اور مسکینی کی کسی بات کو عمل میں لائے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔''
اور بعض عبادت گزار ہر دن ایک ہزار رکعات پڑھتے یہاں تک کہ وہ بیٹھتے اور اسی حالت میں ایک ہزار رکعتیں پڑھ لیتے۔ جب عصر کی نماز پڑھتے تو ٹانگیں کھڑی کرکے بیٹھتے پھر فرماتے مخلوق پر تعجب ہے انہوں نے کیسے تیرے بدلے میں کسی دوسری چیز کا ارادہ کیا؟ مخلوق پر تعجب ہے کہ وہ تیرے علاوہ کسی اور سے کیسے مانوس ہوگئی۔
مشہور بزرگ حضرت سیدنا ثابت بنانی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کو نماز سے بہت محبت تھی وہ کہا کرتے تھے یا اﷲ اگر تو نے کسی کو اجازت دی ہے کہ وہ قبر میں تیرے لئے نماز پڑھے تو مجھے بھی اجازت دے کہ میں قبر میں تیرے لئے نماز پڑھوں گا۔
سلسلہ قادریہ کے عظیم پیشوا حضرت سیدنا جنیدبغدادی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں میں نے حضرت سیدنا سری سقطی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے