Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
112 - 325
اختیار کی وہ دنیا کی کسی چیز پر جو ان کے پاس آتی تھی' خوش نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی انہیں دنیا کے چلے جانے پر افسوس ہوتا تھا اور ان کے نزدیک یہ دنیا اس مٹی سے بھی زیادہ حقیر تھی جسے تم اپنے پاؤں سے روندتے ہو ان میں سے ایک پوری زندگی گزار لیتا لیکن اس کے لئے نہ تو کپڑے کو تہہ لگائی جاتی اور نہ وہ اپنے گھر والوں کو کھانا تیار کرنے کے لئے کہتا نہ اس کے سونے کے لئے زمین پر کوئی چیز بچھائی جاتی میں نے دیکھا کہ وہ اﷲ تعالیٰ کی کتاب اور اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے تھے جب رات چھاجاتی تو وہ اپنے قدموں پر کھڑے ہوجاتے اپنے چہروں کو بچھادیتے اور ان کے آنسو ان کے رخساروں پر جاری ہوتے ۔آخرت کی نجات کے بارے میں اپنے رب سے مناجات کرتے ۔جب اچھا کام کرتے تو اس پر خوش ہوتے اور اس کا شکر ادا کرنے میں جدوجہد کرتے اور اﷲ تعالیٰ سے اس کی قبولیت کا سوال کرتے اور جب کوئی برا عمل کرتے تو اس سے غمگین ہوجاتے اور اﷲ تعالیٰ سے بخشش کا سوال کرتے اﷲ کی قسم ! وہ ہمیشہ اسی حالت میں رہے اور قسم بخدا انہوں نے گناہوں سے سلامتی اور نجات مغفرت کے بغیر نہیں پائی۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! منقول ہے کہ کچھ لوگ حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ آپ کی بیمار پرسی کے لئے آئے تھے ان میں ایک دبلا پتلا نوجوان تھا حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)نے پوچھا اے نوجوان ! تمہاری یہ حالت کیسے ہوئی ؟ اس نے عرض کی امیر المومنین ! کچھ بیماریوں نے یہ حالت بنادی ہے آپ  نے فرمایا ''میں تجھے اﷲ تعالیٰ کا واسطہ دے کر سوال کرتا ہوں کہ سچ سچ بتا''۔

اس نے کہا ''اے امیر المومنین میں نے دنیا کا مٹھاس چکھا تو اس کو کڑوا پایا چنانچہ اس کی تروتازگی اور حلاوت میری نظروں میں حقیر ہوگئی اس طرح میرے نزدیک اس کا سونا اور پتھر ایک جیسے ہوگئے اور گویا میں اپنے رب کے عرش کو دیکھ رہا ہوں اور لوگوں کو جنت و جہنم کی طرف لے جایا جارہا ہے اس دن سے میں دن کو پیاسا اور رات کو بیدار رہتا ہوں اور اﷲ تعالیٰ کے ثواب وعذاب کے مقابلے میں اس حالت کی کوئی حیثیت نہیں جس میں میں ہوں''۔

حضرت سیدنا ابو نعیم(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)فرماتے ہیں حضرت سیدنا داؤد طائی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) روٹی کے ٹکڑے بھگو کر پیتے اور روٹی نہ کھاتے ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا ''روٹی چبانے اور ان ٹکڑوں کو پینے کے درمیان پچاس آیات پڑھنے کا وقت ہوتا ہے'' (اور یہ وقت روٹی کھانے میں صرف ہوجاتا ہے)۔

ایک دن ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ آپ کی چھت میں ایک شتہیر ٹوٹا ہوا ہے فرمایا ''اے بھتیجے میں نے بیس سال سے مکان کی چھت کی طرف نہیں دیکھا۔''

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ وہ لوگ جس طرح فضول کلام کوناپسند کرتے تھے اسی طرح وہ فضول نظر کو