| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
نفع نہیں دیتی۔ ان کے حالات زندگی کا مطالعہ کرے اور انہوں نے جو مجاہدہ کیا اسے دیکھے کہ اب ان کی محنت ختم ہوگئی اور اب دائمی نعمتیں اور ثواب ان کا مقدر ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگااور اس شخص پر کس قدر افسوس ہے جو ان کے پیچھے نہیں چلتا اور محض چند روزہ خواہشات ہی سے نفع اٹھانے کی کوشش کرتا ہے پھر اچانک ایک دن اسے موت آئے گی اور اس کے اور اس کی خواہشات کے درمیان ہمیشہ ہمیشہ کے لئے حائل ہوجائے گی۔ ہم اس بات سے اﷲ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اب ہم ان اوصاف اور فضائل کا ذکر کرتے ہیں جو مریدین کی رغبت کا باعث ہونگے۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔
رَحِمَ االلہُ قَوْمًا یَحْسَبُھُمُ النَّاسُ مَرْضیٰ وَمَاھُمْ بِمَرْضیٰ۔
ترجمہ : ''اﷲ تعالیٰ ان لوگوں پر رحم فرمائے جن کو لوگ بیمار سمجھتے ہیں حالانکہ وہ بیمار نہیں '' حضرت سیدنا حسن (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عبادت میں کوشش کی وجہ سے بیمار (لاغر اور کمزور) نظر آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔اور ارشاد خداوندی ہے۔
وَ الَّذِیۡنَ یُؤْتُوۡنَ مَاۤ اٰتَوۡا وَّ قُلُوۡبُہُمْ وَ جِلَۃٌ
ترجمہ کنزالایمان: ''اور وہ جو دیتے ہیں جو کچھ دیں اور ان کے دل ڈر رہے ہیں''(پارہ سورہ مومنون ' آیت ۶۰) حضرت سیدنا حسن بصری رحمہ اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ نیک اعمال کرتے ہیں پھر بھی ڈرتے ہیں کہ شاید عذاب خداوندی سے نجات حاصل نہ کرسکیں۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا۔
طُوْبٰی لِمَنْ طَالَ عُمَرُہ' وَحَسُنَ عَمَلُہ'۔
ترجمہ : ''اس شخص کے لئے خوشخبری ہے جس کی عمر لمبی اور اعمال اچھے ہوں''(الترغیب والترہیب جلد ۴ ص ۲۵۴ کتاب التوبۃ) ایک روایت میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے میرے ان بندوں کا کیا حال ہے جو عمل میں کوشش کرتے ہیں ؟ وہ عرض کرتے ہیں یا اﷲ ! تو نے انہیں ایک چیز سے ڈرایا ہے پس وہ اس سے ڈرتے ہیں اور تونے ان کو ایک بات کا شوق دلایا تو وہ اس کے مشتاق ہیں ۔اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے اگر میرے بندے مجھے دیکھ لیں تو کیسا ہو؟ وہ کہتے ہیں اس صورت میں وہ زیادہ کوشش کریں گے۔ حضرت سیدنا حسن بصری رضی اللہ تعالی عنه فرماتے ہیں میں نے بہت سے لوگوں کو پایا اور ان میں سے کچھ حضرات کی مجلس