Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
110 - 325
اس میں دائمی نعمتیں ہیں جن کی انتہاء نہیں اور ہمارا نفس ہی ہماری آخرت کو خراب کرتا ہے لہٰذادوسروں کی نسبت یہ سزا کا زیادہ مستحق ہے۔
فصل ۔۔۔۔۔۔ ۴

               پانچویں نگہداشت ۔۔۔۔۔۔ مجاہدہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جب نفس کا احتساب کرلیا اور دیکھا کہ وہ گناہ سے الگ ہوگیا ہے تو اب چاہئے کہ گزشتہ گناہوں پر اسے سزا دے اور دیکھے اگر وہ کسی مستحب کام میں سستی کرتا ہے یا کسی وظیفہ میں کوتاہی کرتا ہے تو اس کی تادیب اس طرح کرے کہ اسپر نوافل کا بوجھ ڈال دے اور اللہ (عزوجل) کے لئے عمل کرنے والے اسی طرح عمل کرتے ہیں چنانچہ 

ایک مرتبہ حضرت سیدنا عمر فاروق(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)کی نماز عصر رہ گئی تو انہوں نے اپنی وہ زمین صدقہ کردی جس کی قیمت دو لاکھ درھم تھی۔

اگر حضرت سیدنا عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے نماز باجماعت رہ جاتی تو آپ وہ پوری رات عبادت میں گزار دیتے۔

ایک مرتبہ نماز مغرب میں تاخیر ہوگئی حتی کہ دوستارے نکل آئے تو آپ نے دو غلام آزاد فرمائے۔ حضرت سیدنا ابن ابی ربیعہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)سے فجر کی دو رکعتیں رہ گئیں تو انہوں نے ایک غلام آزاد کیا۔

اور ان بزرگوں میں سے بعض اپنے نفس پر ایک سال روزہ رکھنا یا پیدل حج کرنا یا اپنا تمام مال صدقہ کرنا لازم کردیتے اور وہ یہ تمام کام نفس کی نگہداشت اور حصول نجات کے لئے کرتے تھے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اگر آپ کہیں کہ میرا نفس مجاہدے اور دائمی وظائف کے بارے میں میری بات نہیں مانتا تو اس کے علاج کی کیا صورت ہوگی ؟ تو میں کہتا ہوں اسے وہ احادیث سنائیں جو عبادت میں کوشش کرنے والوں کے حق میں آئی ہیں اور ان بزرگوں (رحمہم اللہ تعالیٰ) کے واقعات سنائیں جو عبادت کی خوب کوشش کیا کرتے تھے ۔

چنانچہ ایک بزرگ فرماتے ہیں جب مجھے عبادت کرتے ہوئے کچھ کوتاہی محسوس ہوتی ہے تو میں حضرت سیدنا محمد بن واسع (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے حالات دیکھتا ہوں اور ایک ہفتہ تک اس پر عمل کرتا ہوں۔

لیکن آج کل یہ علاج ذرامشکل ہے کیوں کہ اس زمانے میں ایسے لوگ نہیں ملتے جو پہلے لوگوں کی طرح عبادت میں کوشاں ہوں۔ لہٰذا مشاہدے کو چھوڑ کر مطالعے کی طرف رجوع کرے کیوں کہ ان کے احوال سننے سے بڑھ کر کوئی بات
Flag Counter