شریک نہیں ہوا اور اس میں بھی تم نے وہی بات کہی اور اہل وعیال کی یاد دلائی تو میں نے تیری بات مانی اور واپس لوٹ گیا اﷲ کی قسم ! آج میں تجھے اﷲ تعالیٰ کے سامنے پیش کروں گا اس کی مرضی ہے وہ تجھے پکڑے یا چھوڑ دے ۔
راوی کہتے ہیں میں نے دل میں کہا کہ آج میں اس شخص کی نگرانی کروں گا میں اسے دیکھتا رہا لوگوں نے دشمن پر حملہ کیا تو وہ سب سے آگے تھا پھر دشمن ان لوگوں پر حملہ آور ہوئے تو وہ بکھر گئے لیکن وہ شخص اپنی جگہ کھڑا رہا حتی کہ وہ کئی مرتبہ اِدھر اُدھر ہوئے لیکن یہ ثابت قدمی سے لڑتا رہا اﷲ کی قسم وہ اسی حالت میں رہا حتی کہ وہ شہید ہو کر گرپڑا تو میں نے اس پر اور اس کی سواری پر ساٹھ یا اس سے بھی زیادہ زخم شمار کئے۔
حضرت سیدنا ابو طلحہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے متعلق حدیث ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں کہ جب ایک پرندے نے نماز میں ان کی توجہ کو ہٹایا جو ان کے باغ میں تھا تو انہوں نے اس کے کفارے کے طور پر اپنا باغ صدقہ کردیا اور حضرت سیدنا عمر فاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ہر رات اپنے پاؤں پر درہ مارا کرتے تھے اور فرماتے بتا آج تو نے کیا عمل کیا ہے ؟
اسی طرح حضرت سیدنا مجمع (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)سے منقول ہے انہوں نے اپنا سرچھت کی طرف اٹھایا تو ان کے نظر ایک عورت پر پڑی تو انہوں نے قسم کھائی کہ وہ جب تک دنیا میں موجود ہیں آسمان کی طرف نظر نہیں اٹھائیں گے۔
حضرت سیدنا احنف بن قیس (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ہمیشہ رات کے وقت اپنی انگلی جلتے ہوئے چراغ پر رکھتے اور اپنے نفس سے فرماتے کہ تم نے فلاں دن فلاں عمل کیوں کیا؟
حضرت سیدنا وہیب بن ورد (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کو اپنے نفس کی کوئی بات بری معلوم ہوئی تو انہوں نے اپنے سینے کے کچھ بال اکھیڑ دیئے حتی کہ جب سخت تکلیف محسوس ہوئی تو فرمانے لگے میں تو تیری بھلائی چاہتا ہوں۔
حضرت سیدنا محمد بن بشر نے حضرت سیدنا داؤد طائی رحمہما اﷲ تعالیٰ کو دیکھا کہ وہ افطاری کے وقت نمک کے بغیر روٹی کھارہے تھے فرمایا ''اگر نمک کے ساتھ کھاتے تو کیا حرج تھا ؟'' انہوں نے جواب دیا ''میرا نفس ایک سال سے مجھ سے نمک کا مطالبہ کررہا ہے''۔ راوی فرماتے ہیں کہ جب تک حضرت سیدنا داؤد(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)دنیا میں رہے انہوں نے نمک نہیں چکھا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! محتاط لوگ تو اس طرح اپنے نفس کو سزا دیتے تھے اور تعجب کی بات ہے کہ ہم اپنے نوکروں' ماتحتوں اور اپنی بیوی بچوں سے کوئی بد اخلاقی یا کسی کام میں کوتاہی دیکھتے ہیں تو ان کو سزا دیتے ہیں اور اس بات کا ڈر ہے کہ اگر ان سے درگزر کیا جائے تو یہ لوگ ہاتھ سے نکل جائیں گے اور سرکشی کریں گے لیکن اپنے نفس کو چھوڑ دیتے ہیں حالاں کہ وہ ہمارا بہت بڑا دشمن ہے اور اس کی سرکشی کا نقصان ہمارے اہل و عیال کی سرکشی کے نقصان سے زیادہ ہے ۔ وہ تو زیادہ سے زیادہ ہماری زندگی میں ہمیں پریشان کریں گے اور اگر ہم سمجھ دار ہوتے تو معلوم ہوتا کہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے اور