ایک مرتبہ ایک طالب علم علماء (رحمہم اﷲ) کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی کہ کون ہے جو مجھے ایسا عمل بتائے جسکی بدولت میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا شمار کیا جاؤں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ کسی وقت بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل رہوں۔
اس سے کہا گیا،(یہ سوال کر کے) تم نے اپنی مراد کو پا لیا ہے جاؤ جس قدر نیکی کر سکو کرو اور جب تھک جاؤ اور عمل نہ کر سکو تو کم از کم عمل کرنے کی نِیّت ہی کرلو کہ نِیّت کرنے والا بھی عمل کرنے والا ہی شمار کیا جاتا ہے''۔
اسی طرح بعض بزرگان دین (رحمہم اﷲ) فرماتے ہیں کہ اے لوگو! تم پر اللہ (عزوجل) کی نعمتیں بے شمار ہیں اور تمہارے گناہ تمہیں یاد نہیں لیکن اگر تم صبح و شام توبہ کرو تو ماں باپ سے زیادہ شفقت کرنے والا رب غفور (عزوجل) درمیان والے گناہ بخش دے گا''۔
حضرت سَیِّدُنَا عیسیٰ روح اللہ (علی نبینا و علیہ الصلٰوۃ والسلام) نے فرمایا '' اس آنکھ کے لئے خوش خبری ہے جو سو جائے اور گناہ کا ارادہ نہ کرے اور پھر بے گناہی کی حالت میں بیدار ہو۔
حضرت سَیِّدُنَا ابو ھریرہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں '' قیامت کے دن لوگ اپنی نِیّتوں کے مطابق اٹھائے جائیں گے''۔
سَیِّدُنَا فُضَیْل بن عِیَاض (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) جب یہ آیت مبارکہ پڑھا کرتے: