Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
108 - 325
ہوا اور عرض کرنے لگا کہ مجھ پر میرا نفس غالب ہوگیا تھا نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ''جو کچھ تم نے کیا اس کے علاوہ کوئی دوسرا علاج نہ تھا ؟ سنو ! تمہارے لئے آسمان کے دروازے کھل گئے اور اﷲ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے تم پر فخر کا اظہار فرماتا ہے ''اس کے بعد آپ نے صحابہ کرامث سے فرمایا ''اپنے بھائی سے کچھ توشہ لے لو ''تو ایک صحابی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے کہا ''اے فلاں ! میرے لئے دعا کرو میرے لئے دعا کرو''۔ رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا'' ان سب کے لئے دعا کرو ''چنانچہ اس نے یوں دعا مانگی۔
اَللَّھُمَّ اجْعَلِ التَّقْویٰ زَادَ ھُمْ وَاجْمَعْ عَلیَ الْھُدیٰ اَمْرَھُمْ
ترجمہ : ''یا اﷲ ! تقویٰ ان کا سامان بنادے اور ان سب کے معاملے کو ہدایت پر جمع کردے''

نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرمانے لگے یا اﷲ ! اس کو راہ راست پر رکھ ۔تو اس نے کہا یا اﷲ ان سب کا ٹھکانہ جنت میں بنادے۔

                 (کنز العمال جلد ۶ ص ۶۱۷' ۶۱۸ حدیث ۴۸۹۷)

حضرت سیدنا حذیفہ بن قتادہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ایک شخص سے پوچھا گیا کہ تم اپنے نفس کی خواہشات کے سلسلے میں کیا کرتے ہو ؟ اس نے کہا رُوئے زمین پر مجھے اپنے نفس سے زیادہ کس چیز سے نفرت نہیں تو میں اس کی خواہشات کو کیسے پورا کرسکتا ہوں۔

حضرت سیدنا ابن سماک' حضرت سیدنا داؤد طائی (رحمہما اﷲ) کے وصال کے بعد ان کے پاس پہنچے اور وہ اپنے گھر میں مٹی پر پڑے ہوئے تھے انہوں نے فرمایا ''اے داؤد ! تونے اپنے نفس کو اس کے قید ہونے سے پہلے قید کردیا اور اس کو عذاب ہونے سے پہلے عذاب میں مبتلا کیا آج تم اس کی طرف سے ثواب دیکھو گے جس کے لئے ایسا کرتے تھے۔

حضرت سیدنا وہب بن منبہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ایک شخص نے ایک عرصہ تک عبادت کی پھر اسے کوئی حاجت پیش آئی تو وہ ستر ہفتے اس طرح کھڑا رہا کہ وہ ہر ہفتے میں گیارہ کھجوریں کھاتا تھا۔ پھر اپنی حاجت کا سوال کیا لیکن اس کی حاجت پوری نہ ہوئی چنانچہ اس نے اپنے نفس کی طرف متوجہ ہو کر کہا یہ تیری وجہ سے ہوا اگر تجھ میں کوئی بھلائی ہوتی تو تیری حاجت پوری ہوجاتی اس وقت ایک فرشتہ نازل ہوا اور اس نے کہا اے ابن آدم ! تیری یہ ساعت جس میں تو نے نفس کو جھڑکا تیری گذشتہ عبادت سے بہتر ہے اور اﷲ تعالیٰ نے تیری حاجت کو پورا کردیا ہے۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا عبد اﷲ بن قیس (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ہم ایک جہاد میں شریک تھے جب دشمن سر پر آگیا تو لوگوں میں چیخ و پکار شروع ہوگئی وہ سخت ہوا کا دن تھا لوگ اسی حالت میں میدان جنگ کی طرف چل پڑے تو میں نے اپنے سامنے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے نفس سے مخاطب تھا اور کہہ رہا تھا اے میرے نفس کیا میں فلاں فلاں جنگ میں شریک نہیں ہوا تو تُو نے کہا اپنے اہل و عیال کی طرف چل میں نے تیری بات مانی اور واپس لوٹ گیا کیا میں فلاں جنگ میں
Flag Counter