جلدی کرنے کی بجائے توقف اور تاخیر کررہا ہوں میں نے قسم کھائی کہ میں اسی گدڑی میں غسل کروں گا اور یہ بھی قسم کھائی کہ میں نہ تو اسے اتاروں گا اور نہ نچوڑوں گا اور نہ ہی اسے دھوپ میں خشک کروں گا۔
اسی طرح منقول ہے کہ سیدنا غزوان اور سیدنا ابو موسیٰ رحمہما اﷲ دونوں ایک جہاد میں مشغول تھے کہ ایک عورت سامنے آئی سیدنا غزوان (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) نے اس کی طرف دیکھا پھر اپنی آنکھ پر اس قدر زور سے طمانچہ مارا کہ آنکھ پتھرا گئی اور فرمایا ''تو اسی چیز کو دیکھتی ہے جو تیرے لئے نقصان دہ ہے'' ۔یونہی کسی دوسرے بزرگ نے ایک عورت کی طرف ایک نگاہ کی تو اپنے اوپر لازم کردیا کہ وہ زندگی بھر ٹھنڈا پانی نہیں پئیں گے اور چنانچہ وہ گرم پانی پیتے تھے تاکہ نفس اس تلخی کا مزہ چکھتا رہے۔
اسی طرح حضرت سیدنا حسان بن ابو سنان (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے بارے میں منقول ہے کہ وہ ایک بالاخانے کے پاس سے گزرے اور کہنے لگے یہ کب بنا ہے پھر اپنے نفس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا ''تو ایسے کام کے بارے میں پوچھتا ہے تیرے لئے جو بے مقصد ہے میں تجھے ایک سال روزہ رکھنے کی سزا دوں گا ''چنانچہ انہوں نے سال بھر روزہ رکھا۔
حضرت سیدنا مالک بن ضیغم (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں حضرت سیدنا رباح قیسی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)عصر کے بعد آئے اور میرے والد کے بارے میں پوچھا ہم نے کہا وہ تو سوئے ہوئے ہیں فرمایا ''کیا اس وقت سورہے ہیں ؟ کیا یہ سونے کا وقت ہے؟ ''پھر واپس پھر گئے ہم نے ان کے پیچھے ایک آدمی بھیجا اور پوچھا کیا آپ کے لئے ان کو جگادیں ؟ قاصد واپس آیا اور کہنے لگا وہ تو میری بات سمجھنے سے زیادہ اہم بات میں مشغول ہیں میں نے دیکھا کہ وہ قبرستان میں چلے گئے اور اپنے نفس کو اس طرح عتاب کرنے لگے کیا تم نے یہ کہا کہ کیا یہ سونے کا وقت ہے؟ کیا یہ بات کہنا تم پر لازمی تھا آدمی جب چاہے سوئے تمہیں کیا معلوم کہ یہ سونے کا وقت نہیں ہے جس بات کا علم نہیں اس کے بارے میں گفتگو کرتے ہو میں اﷲ تعالیٰ سے وعدہ کرتا ہوں جسے کبھی نہیں توڑوں گا کہ سال بھر تک سونے کے علاوہ زمین پر پیٹھ نہیں لگاؤں گا البتہ یہ کہ کوئی مرض حائل ہوجائے یا عقل زائل ہوجائے تو الگ بات ہے تجھے شرم نہیں آتی کب تک تو لوگوں کو جھڑکتا رہے گا اور اپنی گمراہی سے باز نہیں آئے گا۔ راوی فرماتے ہیں وہ رونے لگے اور انہیں میری موجودگی کا علم نہ ہوا میں نے یہ بات دیکھی تو انہیں چھوڑ کر واپس آگیا۔
حضرت سیدنا تمیم داری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے منقول ہے کہ وہ ایک رات سوئے اورتہجد کے لئے نہ اٹھ سکے تو اس کوتاہی کی سزا کے طور پر وہ ایک سال تک نہ سوئے اور رات کو قیام کرتے رہے۔
حضرت سیدنا طلحہ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے مروی ہے فرماتے ہیں ایک دن ایک شخص چلا اور وہ اوپر کے زائد کپڑے اتار کرکے گرم ریت پر خوب لوٹا اور اپنے نفس سے کہنے لگا اے رات کے مردار اور دن کے بیکار چکھو اور جہنم کی آگ اس سے بھی زیادہ گرم ہے وہ اسی حالت میں تھا کہ اس کی نگاہ سرکار دو عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم پر پڑی آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ایک درخت کے سائے میں آرام فرما تھے۔ وہ حاضر