Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
106 - 325
چیخ ماری اور فرمایا'' ہائے افسوس ! میں حقیقی بادشاہ سے اکیس ہزار پانچ سو گناہوں کے ساتھ ملاقات کروں گا اور جب روزانہ دس ہزار گناہ ہوں تو کیا صورت حال ہوگی '' پھر وہ غش کھا کر گر پڑے اور معلوم ہوا کہ وفات پاگئے ہیں۔ 

لوگوں نے سنا کوئی کہنے والا کہہ رہا تھا اے شخص ! فردوس اعلیٰ کی طرف چلاجا۔اسی طرح ہر وقت نفس سے سانسوں کا حساب بھی کیا جائے نیز دل کے گناہِ اور اعضاء سے سرزد ہونے والی نافرمانیوں پر بھی احتساب کرے ۔اگر آدمی ہر گناہ پر اپنے گھر میں ایک پتھر پھینکے تو تھوڑی سی مدت میں اس کا گھر پتھروں سے بھر جائے گا۔ لیکن وہ گناہوں کو یاد رکھنے میں سستی کرتا ہے جب کہ دو فرشتے اسے یاد رکھتے ہیں اﷲ تعالیٰ اسے شمار کرتا ہے اور انسان بھول جاتے ہیں۔
فصل ۔۔۔۔۔۔ ۳

                چوتھی نگہداشت ۔۔۔۔۔۔ کوتاہی پر نفس کو سزا:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!جب آدمی اپنے نفس کا احتساب کرے اور پھر اس گناہ کے ارتکاب اور حق خداوندی د میں کوتاہی سے محفوظ نہ پائے تو اس کے لئے مناسب نہیں کہ نفس کو کھلی چھٹی دے دے کیونکہ اسے مہلت دینے کی صورت میں گناہوں کا ارتکاب آسان سے آسان ہوجائے گا ۔نفس ان کا عادی ہوجائے گا اور پھرانہیں چھوڑنا نہایت مشکل ہوگا۔ اور یہی اس کی ہلاکت کا سبب بن سکتا ہے ۔ لہٰذا اسے چاہئے کہ اس کو تنبیہ کرتا رہے جب نفس کی خواہش کے مطابق کوئی مشتبہ لقمہ کھائے تو اسے چاہئے کہ نفس کو بھوک کے ذریعے سزا دے اور اگر کسی غیر محرم کو دیکھے تو آنکھ کو روکنے کے ذریعے سزا دے اسی طرح جسم کے ہر عضو کو خواہشات کی تکمیل سے روکنے کے ذریعے سزا دے کہ آخرت کے راستے پر چلنے والوں کا یہی طریقہ تھا۔

حضرت سیدنا منصور بن ابراہیم رحمہ اﷲ سے مروی ہے کہ ایک عبادت گزار آدمی نے کسی عورت سے بات کی حتی کہ اس نے اس کی ران پر ہاتھ رکھ دیا پھر اسے ندامت ہوئی اور یہ ندامت اتنی بڑھی کہ کچھ وقت کے لئے اس کی عقل زائل ہوگئی اور اس نے اپنا ہاتھ آگ پر رکھ دیا حتی کہ وہ جل کر کباب ہوگیا۔

حضرت سیدنا جنید بغدادی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)سے منقول ہے فرماتے ہیں میں نے ابن کریبی (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے سنا وہ فرماتے تھے کہ ایک رات میں جنبی ہوگیا اور مجھے غسل کی ضرورت پڑگئی رات ٹھنڈی تھی میں نے محسوس کیا کہ میرا دل اس میں کوتاہی کررہا ہے اور چاہتا ہے کہ صبح ہوجائے اور میں گرم پانی کے حمام میں نہاؤں اور نفس پر مشقت نہ ڈالوں۔میں نے کہا تعجب کی بات ہے میرا زندگی بھر اﷲ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ ہے اور اس کا مجھ پر حق واجب ہوا اور میں
Flag Counter