میں اس کے تدارک کا مطالبہ کرے۔ اسی طرح دین کے حوالے سے اصل مال فرائض اور نفع نوافل ہیں اور اس کا نقصان گناہ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
اس مدنی تجارت کا موسم (سیزن) پورا دن ہوتا ہے اور عمل کرنے والا نفس اَماّرہ ہے لہٰذا پہلے اس سے فرائض کے بارے میں پوچھے اگر اس نے اس طرح ادائیگی کردی جس طرح چاہئے تھا تو اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اسی طرح ادائیگی کرتے رہنے کی رغبت دے اور اگر اس نے بالکل ادا نہیں کئے تو اس سے قضا کا مطالبہ کرے اگر اس نے ناقص طور پر ادائیگی کی ہوتو اسے نوافل کے ذریعے نقصان کو پورا کرنے کا پابند بنائے۔اور اگر اس نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا ہو تو اسے (نفس کو) سزا دینے اور جھڑکنے میں جلدی کرے اور اس کی کوتاہی کا اچھی طرح تدارک کرے جس طرح تاجر اپنے شریک کے ساتھ کرتا ہے۔
اورجس طرح وہ دنیا میں ایک ایک پیسے کا حساب کرتا اور نفع و نقصان کے ہر پہلو پر نظر رکھتا ہے تاکہ اسے اس میں کچھ بھی نقصان نہ ہو تو اسے چاہئے کہ نفس کے معمولی سے نقصان اور مکرو فریب سے بھی بچے کیوں کہ یہ بڑا دھوکے باز اور مکار ہے لہٰذا پہلے اس سے تمام دن کی گفتگو کا صحیح جواب طلب کرے اور اپنے نفس سے اس بات کا خود حساب لے جس کا حساب قیامت کے دن رب لم یزل عزوجل لے گا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اسی طرح نظر بلکہ دل کے خیالات اور وسوسوں' اٹھنے' بیٹھنے کھانے پینے' سونے حتی کہ خاموشی کا حساب بھی لے اور سکون کے بارے میں پوچھ گچھ کرے اورجب ان تمام باتوں کا علم ہوجائے جو نفس پر واجب تھیں اور اس کے نزدیک صحیح طور پر ثابت ہوجائے کہ جس قدر واجب کی ادائیگی ہوئی ہے اتنے کا حساب ہوگیا اب باقی نفس کے ذمہ دل اور کاغذ دونوں پر لکھے جیسے اپنے شریک کے ذمہ باقی حساب دل پر بھی لکھتا ہے اور حساب وکتاب کے رجسٹر میں بھی۔
پھر جب نفس قرض دار ٹھہرا تو اس سے قرض وصول کرے کچھ جرمانہ کے ذریعے اور کچھ اسی کی واپسی سے اور بعض کاموں پر اسے سزا دے اور یہ سب کچھ حساب کی تحقیق کے بعد ہی ممکن ہے تاکہ جس قدر واجب باقی ہے اس کی تمیز ہوسکے جب یہ بات معلوم ہوجائے تو اب اس سے مطالبہ اور تقاضا کرنا چاہئے ۔اسے چاہئے کہ نفس سے ایک ایک دن گھڑی کرکے تمام عمر کا حساب تمام ظاہری اور باطنی اعضا کے حوالے سے کرے ۔
جیسے حضرت سیدنا توبہ بن صمہ رحمہ اﷲ سے منقول ہے وہ ''رقہ'' کے مقام پر تھے اور اپنے نفس کا محاسبہ کیا کرتے تھے ۔انہوں نے ایک دن حساب لگایا تو ان کی عمر ساٹھ سال تھی ۔دنوں کا حساب کیا تو وہ اکیس ہزار پانچ سوتھے انہوں نے