Brailvi Books

فیضانِ اِحیاءُ العُلوم
104 - 325
گویا میں اس کے پھل کھا رہا ہوں اس کی نہروں سے پانی پیتا اور وہاں کی حوروں سے ملاقاتیں کرتا ہوں پھر میں نے اپنے نفس کو جہنم میں یوں دیکھا کہ گویا اس کی کڑوی غذا (تھوہڑ) کھاتا اور پیپ پیتا ہوں نیز اس کے طوق اور زنجیروں میں جکڑا ہوا ہوں تو میں نے اپنے نفس سے کہا اے نفس تم کیا چاہتے ہو اس نے کہا میں دوبارہ دنیا میں جا کر اچھے کام کرنا چاہتا ہوں میں نے کہا تمہیں اجازت ہے اور یہ چند سانسیں تمہارے پاس امانت ہیں،تم امین ہو پس عمل کرو۔ 

حضرت سیدنا مالک بن دینار(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)فرماتے ہیں کہ میں نے حجاج بن یوسف کو دیکھا اس نے خطبہ دیتے ہوئے کہا اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو اپنا محاسبہ کرتا ہے اس سے پہلے کہ اسکا محاسبہ کسی اور کے ہاتھ میں چلا جائے اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم فرمائے جو اپنے عمل کی لگام پکڑتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو اپنے ناپ تول میں نظر کرتا ہے وہ مسلسل کہتا رہا حتی کہ میں رو پڑا۔

حضرت سیدنا احنف بن قیس (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)کے مرید نے بیان کیا کہ میں ان کی مجلس میں رہتا تھا وہ رات کو اکثر نماز کی جگہ دعا مانگتے تھے اور چراغ کے پاس آکر اس کی لو پر انگلی رکھتے حتی کہ آگ کی تپش محسوس ہوتی پھر اپنے نفس سے فرماتے اے احنف ! آج تم نے جو عمل کی اس کی وجہ کیا تھی ؟ آج تم نے جو عمل کیا اس پر تجھے کس نے ابھارا؟۔
عمل کے بعد محاسبہ کی حقیقت:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جس طرح بندے کے لئے ضروری ہے کہ وہ د ن کے شروع میں ایک وقت مقرر کرے جس میں اپنے نفس کو حق کی وصیت کرے اور اس سے اس بات کی شرط رکھے اسی طرح دن کے آخر میں بھی ایک وقت مقرر ہونا چاہئے جس میں وہ اپنے نفس سے مطالبہ اور اس کی تمام حرکات و سکنا ت پر محاسبہ کرے جس طرح تاجر لوگ دنیا میں اپنے شریکوں کے ساتھ حساب کتاب کیلئے سال یامہینے کے آخر میں ایک وقت مقرر کرتے ہیں حالانکہ وہ دنیوی حرص کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں اور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ کہیں دنیوی مال تلف نہ ہو جائے حالانکہ اس کا فوت ہوجانا ان کیلئے غفلت سے بہتر ہے اورا گر یہ مال ان کو حاصل ہو تو بھی چند دن ہی باقی رہتا ہے تو عقلمند آدمی اپنے نفس سے اس بات کا حساب کیسے نہ کرے جس سے دائمی بد بختی یا نیک بختی کا تعلق ہے۔ 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اس محاسبے میں سستی' غفلت اورذلت و رسوائی توفیق نہ ملنے کی وجہ سے ہوتی ہے 'معاذ اﷲ شریک کے ساتھ حساب کتاب کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اصل مال اور نفع ونقصان کا جائزہ لے تاکہ کمی زیادتی کا پتہ چل سکے اگر مال میں اضافہ ہوا تو اسے وصول کرے اور اس کا شکریہ ادا کرے اور اگر نقصان ہو تو اس سے نقصان بھرنے اور مستقبل
Flag Counter