گویا میں اس کے پھل کھا رہا ہوں اس کی نہروں سے پانی پیتا اور وہاں کی حوروں سے ملاقاتیں کرتا ہوں پھر میں نے اپنے نفس کو جہنم میں یوں دیکھا کہ گویا اس کی کڑوی غذا (تھوہڑ) کھاتا اور پیپ پیتا ہوں نیز اس کے طوق اور زنجیروں میں جکڑا ہوا ہوں تو میں نے اپنے نفس سے کہا اے نفس تم کیا چاہتے ہو اس نے کہا میں دوبارہ دنیا میں جا کر اچھے کام کرنا چاہتا ہوں میں نے کہا تمہیں اجازت ہے اور یہ چند سانسیں تمہارے پاس امانت ہیں،تم امین ہو پس عمل کرو۔
حضرت سیدنا مالک بن دینار(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)فرماتے ہیں کہ میں نے حجاج بن یوسف کو دیکھا اس نے خطبہ دیتے ہوئے کہا اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو اپنا محاسبہ کرتا ہے اس سے پہلے کہ اسکا محاسبہ کسی اور کے ہاتھ میں چلا جائے اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم فرمائے جو اپنے عمل کی لگام پکڑتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو اپنے ناپ تول میں نظر کرتا ہے وہ مسلسل کہتا رہا حتی کہ میں رو پڑا۔
حضرت سیدنا احنف بن قیس (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)کے مرید نے بیان کیا کہ میں ان کی مجلس میں رہتا تھا وہ رات کو اکثر نماز کی جگہ دعا مانگتے تھے اور چراغ کے پاس آکر اس کی لو پر انگلی رکھتے حتی کہ آگ کی تپش محسوس ہوتی پھر اپنے نفس سے فرماتے اے احنف ! آج تم نے جو عمل کی اس کی وجہ کیا تھی ؟ آج تم نے جو عمل کیا اس پر تجھے کس نے ابھارا؟۔