| فیضانِ اِحیاءُ العُلوم |
رکاوٹ ہے اور وہ عمل سے پہلے حساب ہے۔ '' پھر فرمایا '' بعض اوقات اس سے کوتاہی ہو جاتی ہے تو وہ اپنے نفس سے کہتا ہے اس سُستی سے تیرا کیا ارادہ ہے؟ اللہ تعالیٰ کی قسم ! اس سلسلے میں تیرا عذر قبول نہیں کیا جائے گا اور اللہ کی قسم !میں آئندہ کبھی بھی یہ کام نہیں کروں گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ''۔
اپنے نفس کو ملامت کرنے والا خوش نصیب ہے :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حضرت سیدنا انس بن مالک(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں ایک دن میں حضرت سیدنا عمر فاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے ساتھ چلا آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) ایک باغ میں تشریف لے گئے۔ میرے اور آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)کے درمیان ایک دیوار حائل تھی میں نے دیکھا کہ آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) اکیلے تھے اور فرما رہے تھے اے عمر بن خطاب! تو امیر المؤمنین ہے، کیا خوب؟ اللہ کی قسم !تجھے اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ہوگا ورنہ وہ تجھے عذاب دے گا۔ جیسا کہ ربِّ کائنات کا فرمان والا شان ہے:
وَ لَاۤ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ ﴿۲﴾
ترجمہ کنز الایمان: ''اور اس جان کی قسم ! جو اپنے اوپر بہت ملامت کرے'' ( پارہ۲۹ 'سورہ القیامۃ' آیت۲) اس آیت کی تفسیر میں حضرت سیدنا حسن بصری (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں مومن ہمیشہ اپنے نفس کو جھڑکتا ہی رہتا ہے کہ اس کلام سے میرا ارادہ کیا تھا؟ اُس کھانے سے کیا مقصود تھا ؟ میرے اس پینے سے کیاارادہ تھا؟ اور بدکار آدمی زندگی بسر کرتا رہتا ہے لیکن کبھی بھی اپنے نفس کو عتاب نہیں کرتا۔ حضرت سیدنا میمون بن مہران (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) مزید فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جو اپنے نفس سے کہتاہے کیا تو فلاں گناہ والا نہیں؟ کیا تو فلاں عمل والا نہیں؟ پھر اسے لگام ڈال کر اللہ تعالیٰ کی کتاب کا پابند کر دیتا ہے تو یہ شخص فائدے میں رہتا ہے ۔ اور یہی نفس کا محاسبہ اور عتاب ہے۔ حضرت سیدنا میمون بن مہران(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)فرماتے ہیں مومن اپنے نفس کا محاسبہ ظالم بادشاہ اور بخیل شریک سے بھی زیادہ کرتا ہے۔
ہماری سانسیں امانت ہیں :
حضرت سیدنا ابراھیم تیمی(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) فرماتے ہیں میں نے اپنے مراقبے کے دوران اپنے نفس کو جنت میں اسطرح دیکھا کہ