حضرت سیدنا عمر فاروق(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کے بارے میں مروی ہے کہ جب رات ہوجاتی تو آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)اپنے پاؤں پر دُرّہ مارتے اور اپنے آپ سے پوچھتے کہ آج تم نے کیا عمل کیا ہے؟
حضرت سیدنا میمون بن مہران (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے منقول ہے وہ فرماتے ہیں آدمی اس وقت تک متقی نہیں ہو سکتاجب تک کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ نہ کر لے کیونکہ کام کے بعد شریکین ایک دوسرے سے حساب کرتے ہیں۔
ام المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا)سے مروی ہے کہ حضرت سیدنا ابو بکر(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)نے وصال کے وقت ان سے فرمایا '' مجھے حضرت سیدنا عمر فاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)سے زیادہ کوئی شخص محبوب نہیں ''پھر فرمایا ' ''میں نے کیا کہا؟'' انہوں نے آپ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)کی بات دُہرادی ۔آپ(رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)نے فرمایا ''( نہیں بلکہ )حضرت سیدنا عمرفاروق (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) سے زیادہ مجھے کوئی عزیز نہیں''۔ تو دیکھئے کس طرح انہوں نے عمل کے بعد غور و فکر کیا اور ایک بات کو دوسری بات سے بدل دیا۔
بالکل ایسے ہی حضرت سیدنا ابو طلحہ (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ)کی روایت ہے کہ جب نماز میں پرندے نے ان کی توجہ دوسری طرف مبذول کر دی تو انہوں نے اپنا باغ اللہ تعالیٰ کیلئے صدقہ کر دیا۔اس کی وجہ ندامت اور اس (صدقہ) کے عوض (ثواب ) کی امید تھی ۔
اسی طرح حضرت سیدنا ابن سلام (رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ) کی روایت میں ہے کہ انہوں نے لکڑیوں کا ایک گٹھا اٹھایا تو ان سے کہا گیا اے ابو یوسف! آپ کے بیٹے اور غلام اس کام کیلئے کافی تھے، انہوں نے فرمایا ''میں اپنے نفس کا تجربہ کرنا چاہتا تھا کہ کہیں وہ انکار تو نہیں کرتا''۔