Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
51 - 56
 کا مظاہرہ کیا مگر جب امیرِ اہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے اپنے دلکش انداز، حکمت ِ عملی اور حسنِ تدبیر سے صلح کی برکتیں، غصے اور اس کے سبب پیدا ہونے والے بغض وکینہ وغیرہ کے نقصانات، قطع تعلقی کی نحوستیں، معاف کرنے اور مسلمانوں کے عیب چھپانے کے فضائل، غیبت وتہمت کی تباہ کاریاں اور ان سے بچنے کے طریقے، ظلم پر صبر کے فوائد، آپس کی محبت اور حقوق العباد کی بجاآوری کی ترغیبات ارشاد فرمائیں تو انہیں سن کر فریقین اپنے موقف سے دستبردار ہو کر صلح پر آمادہ ہو گئے اور جذبات وتاثر سے رو رو کر ایک دوسرے سے معافی مانگتے ہوئے گلے مل گئے۔چنانچہ، 
یورپین ممالک کے ایک شہر کے تنظیمی ذمہ دار اسلامی بھائیوں میں شکر رنجیاں چل رہی تھیں۔ صلح کی کوئی مضبوط صورت نہیں بن پاتی تھی اور دعوت اسلامی کا مدنی کام بہت متأثر تھا۔ امیر اہلسنت دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکی اس طرف توجہ دلائی گئی تو آپ نے ایک مکتوب دیا۔ چنانچہ، مجلسِ بیرونِ ملک کے ایک ذمہ دار اسلامی بھائی وہ مکتوب لے کر باب المدینہ کراچی سے سفر کر کے رجب المرجب ۱۴۲۷؁ ھ میں مطلوبہ شہر پہنچے۔ اسلامی بھائیوں کو جمع کر کے ’’مکتوب عطار‘‘ پڑھ کر سنایا گیا، سن کر سارے بیقرار و اشکبار ہو گئے، رو رو کر ایک دوسرے سے معافیاں مانگ لیں اور سب نے صلح نامہ پر دستخط کر دیئے۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ