Brailvi Books

فیصلہ کرنے کے مدنی پھول
50 - 56
{9} غصے میں فیصلہ نہ کیجئے۔ 
{10} کسی فریق کا حق ضائع نہ ہو۔ 
امیرِ اہلسنّت  دَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہکےفیصلہ کرنے کا انداز
اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ ہمارے شیخِ طریقت ،امیر اہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اسلامی بھائیوں کے درمیان پیدا ہونے والی شکر رنجیوں میں کئی بار فیصلے کرائے ہیں۔ اس سلسلے میں آپدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا مبارک انداز یو ں دیکھا گیاہے: 
صلح وفیصلہ سے پہلے آپ دعاکر کےاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے فریبِ نفس وشیطان کے خلاف استعانت کرتے ہیں۔ پھر کمالِ ضبط سے فریقین کا موقف سماعت کرتے ہیں۔ آپدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی عادتِ مبارکہ ہے کہ ہرگزکسی ایک کی طرف جھکاؤ اختیار نہیں فرماتے، سامنے کیسا ہی ذمہ دار یا قریبی اسلامی بھائی ہو انصاف کے دامن کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اور جو حق ہو اسی پر فیصلہ صا در فرماتے ہیں۔ 
آپ کی حتی الامکان یہی کوشش ہوتی ہے کہ معاملہ صلح وصفائی سے طے پاجائے چنانچہ بارہاایسا ہوا کہ دو فریق آپس میں غم وغصہ لئے بارگاہِ امیرِ اہلسنّتدَامَت بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ میں حاضر ہوئے اور اپنے اپنے موقف ومدعا پر ضد اور سختی